جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کسی بھی علاقے میں 2گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، وزیراعظم کا حکم

datetime 11  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آر ایل این جی کی ترسیل میں تعطل سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں اور تمام موجود وسائل کا موثر استعمال کیا جائے ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ پر اہم جائزہ اجلاس ہوا جس میں آگاہ کیا گیا کہ خطے کی حالیہ صورتحال اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے سے بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مجبورا لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ خطے کی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آر ایل این جی کی ترسیل میں تعطل سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات لئے جائیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام موجود وسائل کا موثر استعمال کیا جائے تاکہ کسی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور دیگر تمام مسائل سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ڈسکوز کی سطح پر کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں قائم کرنے کے احکامات جاری کئے ۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ریڈریسل کمیٹی میں عوامی نمائندگی بھی ہونی چاہیے،ایک ہفتے کے اندر گریونس کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہیلپ لائین نمبر 118 کے ذریعے بجلی صارفین اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں ، شکایت درج کروانے پر صارف کو ٹوکن نمبر اور شکایت کے ازالے کا وقت بھی بتایا جاتا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ماسوائے ضلع راجن پور کے 6 بجلی صارفین کے ملک بھر کے کسی صارف کی بجلی مون سون بارشوں کی وجہ سے متاثر نہیں ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطائ اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر پاور ڈویڑن سردار اویس لغاری، مشیر وزیر اعظم رانا ثنائ اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…