جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی وفات پر معاونتی پیکیج میں تبدیلی کر دی

datetime 11  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (*نیوز* ڈیسک) وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے دورانِ ملازمت انتقال کی صورت میں اہل خانہ کو دی جانے والی مالی و دیگر معاونت کے پیکیج میں تبدیلی کردی ہے۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نظرثانی شدہ معاونتی پیکیج کا آفس میمورنڈم جاری کردیا ہے، جس کا اطلاق 28 اگست 2026 سے ہوگا۔

نئے پیکیج کو عمومی وفات اور سیکیورٹی سے متعلقہ وفات کی دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی سے متعلقہ واقعات میں جاں بحق ہونے والے ملازمین کے لواحقین کے لیے گریڈ کے حساب سے ایک کروڑ سے دو کروڑ روپے تک یکمشت مالی امداد مقرر کی گئی ہے۔

نظرثانی شدہ پیکیج کے تحت شہید سرکاری ملازم کے اہل خانہ کو ملازم کی ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر تک مکمل تنخواہ اور الاؤنسز دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ شہید کے بچوں کو گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن تک مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ بیوہ یا بچوں میں سے ایک فرد کو بی ایس 1 سے 15 تک مستقل سرکاری ملازمت دینے کی شق بھی شامل ہے۔

سیکیورٹی سے متعلقہ وفات کی صورت میں گریڈ کے مطابق مکان خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے ایک کروڑ 35 لاکھ سے 5 کروڑ روپے تک رقم فراہم کی جائے گی۔ دوسری جانب عمومی وفات کی صورت میں ملازم کے گریڈ کے مطابق 6 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک یکمشت گرانٹ مقرر کی گئی ہے، جبکہ لواحقین کو مکمل یعنی 100 فیصد پنشن دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جن ملازمین کی وفات کے وقت سروس کی مدت 10 سال سے کم ہوگی، ان کے ورثا کو بھی کم از کم 10 سالہ سروس کے حساب سے پنشن دی جائے گی۔ عمومی وفات کی صورت میں سرکاری رہائش یا کرائے کے مکان کی سہولت ریٹائرمنٹ تک یا کم از کم 5 سال تک برقرار رکھنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

آفس میمورنڈم میں تمام وزارتوں اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملازمین کے ورثا کی تفصیلات اور جی پی فنڈ کی نامزدگی پہلے سے محفوظ رکھی جائیں۔ لواحقین کو ایک ماہ کے اندر تمام منظور شدہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر وزارت میں ایک افسر کو فوکل پرسن مقرر کیا جائے گا۔

نیا معاونتی پیکیج تمام مستقل وفاقی سرکاری ملازمین پر نافذ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی جاری کردہ نیا نوٹیفکیشن سابقہ شہداء پیکیجز کی جگہ لے گا اور نظرثانی شدہ پالیسی کے مطابق اہل خاندانوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…