اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بیرون ملک سے موبائل فون پاکستان لانے والے شہریوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کا جائزہ لینے کے بعد فوری کمی کی سفارش کردی۔
رانا محمود الحسن کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں کے تعین، ٹیکسز اور ڈیوٹی کے موجودہ طریقہ کار پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے کمیٹی ارکان کو موبائل فونز پر عائد ٹیکسز اور قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی نے کسٹمز حکام کو ہدایت کی کہ درآمدی موبائل فونز کے ٹیکس سے متعلق ایک مؤثر، شفاف اور واضح نظام تشکیل دیا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے اس معاملے پر ایف بی آر اور ٹیرف کمیشن سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، تاکہ موجودہ ٹیکس نظام اور اس کے صارفین پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔
کمیٹی ارکان نے سفارش کی کہ درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس میں فوری کمی کی جائے۔ اگر اس تجویز پر عمل درآمد ہوتا ہے تو بیرون ملک سے فون لانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ مقامی مارکیٹ سے موبائل خریدنے والے صارفین کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
ایف بی آر حکام نے اجلاس کو بتایا کہ کسی بھی ٹیکس کو نافذ کرنے، ختم کرنے یا اس میں بنیادی تبدیلی کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکس سے متعلق بڑی تبدیلی کے لیے مقررہ قانونی اور پارلیمانی مراحل مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔
دوسری جانب پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں اس وقت 35 کمپنیاں اسمارٹ فونز تیار کررہی ہیں۔
درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کا معاملہ طویل عرصے سے صارفین کے لیے اہم موضوع بنا ہوا ہے، خصوصاً بیرون ملک سے قیمتی موبائل فون پاکستان لانے والے افراد کو مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹی کی مد میں اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
سینیٹ کمیٹی کی سفارش کے بعد اب ایف بی آر اور ٹیرف کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ اور حکومت کا آئندہ لائحہ عمل اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تاہم ٹیکس میں حتمی کمی یا کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ متعلقہ قانونی اور پارلیمانی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔



















































