اسلام آباد (نیوزڈ یسک)دنیا بھر میں بال جھڑنے اور گنج پن کا شکار افراد علاج پر ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں، تاہم اب تک کوئی بھی طریقہ سو فیصد مؤثر ثابت نہیں ہوسکا۔
نئی طبی تحقیق نے اس حوالے سے امید کی ایک نئی کرن پیدا کردی ہے۔تحقیق کے مطابق جوڑوں کی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک دوا مخصوص قسم کے گنج پن کے علاج میں بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔جرنل JAMA Dermatology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق Upadacitinib نامی دوا سے Alopecia Areata کے مریضوں میں بالوں کی نشوونما بحال ہونے کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ایلوپیشیا ایریا ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں کو اپنا ہدف بنا لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سر یا جسم کے مختلف حصوں سے بال اچانک گول دائروں کی شکل میں جھڑنے لگتے ہیں۔اس دوا کی افادیت جانچنے کے لیے دو بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز کیے گئے، جن میں شمالی امریکا، یورپ اور چین سے تعلق رکھنے والے ایسے مریض شریک ہوئے جن کے سر کے زیادہ تر بال جھڑ چکے تھے۔ شرکا میں اوسطاً 84 فیصد تک بالوں کا نقصان ہوچکا تھا۔تحقیق کے دوران مریضوں کو تین مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
پہلے گروپ کو روزانہ 15 ملی گرام جبکہ دوسرے گروپ کو 30 ملی گرام Upadacitinib دی گئی، جبکہ تیسرے گروپ کے افراد کو پلیسبو فراہم کیا گیا۔پلیسبو سے مراد ایسا بے اثر علاج یا دوا ہے جس میں کوئی فعال طبی یا کیمیائی جزو موجود نہیں ہوتا، تاہم تحقیق کے دوران اسے اصل دوا کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ نتائج کا درست موازنہ کیا جاسکے۔محققین نے 24 ہفتوں تک شرکا کے بالوں کی نشوونما میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دوا استعمال کرنے والے دونوں گروپس میں نمایاں تعداد میں مریضوں کے بالوں کی جڑوں پر دوا کے اثرات مرتب ہوئے اور بعض مریضوں میں بالوں کی افزائش میں خاصی بہتری دیکھی گئی۔کچھ مریضوں میں بال تقریباً مکمل طور پر دوبارہ اُگ آئے، جس سے یہ امکان سامنے آیا کہ مدافعتی نظام کے مخصوص ردعمل کو قابو میں لاکر ایلوپیشیا ایریا کے باعث ہونے والے بالوں کے جھڑنے کا مؤثر علاج کیا جاسکتا ہے۔Upadacitinib بنیادی طور پر مدافعتی نظام کے ان سگنلز کو روکنے کا کام کرتی ہے جو جسم میں سوزش اور مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہی سگنلز بالوں کی جڑوں پر مدافعتی نظام کے حملے میں کردار ادا کرتے ہیں۔تحقیق کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ بعض مریضوں میں بالوں کی بہتری چند ہی ماہ کے اندر نمایاں ہونا شروع ہوگئی، تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس علاج کے دیرپا اثرات جانچنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ نتائج ابتدائی ہونے کے باوجود خاصے حوصلہ افزا ہیں۔ آئندہ مطالعات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ دوا سے دوبارہ حاصل ہونے والی بالوں کی نشوونما کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے اور طویل مدت میں اس کے ممکنہ مضر اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔



















































