جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بال پوائنٹ قلم کے 80 سال، ایک چھوٹی ایجاد نے لکھنے کا انداز کیسے بدل دیا؟

datetime 22  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)آج بال پوائنٹ قلم ہماری روزمرہ زندگی کا ایسا عام حصہ ہے جس کے بغیر لکھنے کا تصور بھی مشکل محسوس ہوتا ہے،

تاہم تقریباً 80 سال قبل یہ ایک اہم اور انقلابی ایجاد سمجھی جاتی تھی۔ عام طور پر بائرو کہلانے والے اس قلم کا نام اس کے موجد لاسلو بیرو سے منسوب ہے۔بال پوائنٹ قلم سے قبل لکھنے کے لیے مختلف اقسام کے قلم استعمال کیے جاتے تھے۔ قدیم زمانے میں پرندوں کے پروں سے بنے قلم رائج تھے، بعدازاں دھات کی نوک والے قلم اور فاؤنٹین پین استعمال ہونے لگے۔ ان قلموں کے ساتھ سیاہی رکھنے اور بار بار قلم بھرنے کی ضرورت ہوتی تھی جبکہ سیاہی کاغذ پر پھیلنے کا مسئلہ بھی عام تھا۔1888 میں امریکی موجد جان جے لاؤڈ نے گیند والی نوک کا قلم بنانے کی کوشش کی، تاہم یہ ایجاد بڑے پیمانے پر کامیاب نہ ہوسکی۔ہنگری سے تعلق رکھنے والے اخبار کے مدیر لاسلو بیرو فاؤنٹین پین سے خاصے پریشان تھے۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ اخبارات کی طباعت میں استعمال ہونے والی سیاہی نسبتاً تیزی سے خشک ہوجاتی ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے بھائی گیورگی بیرو کے ساتھ مل کر ایسی تحریری نوک تیار کرنے پر کام شروع کیا جس میں گاڑھی سیاہی استعمال کی جاسکے۔انہوں نے قلم کی نوک پر ایک چھوٹی دھاتی گیند نصب کی۔ قلم کو کاغذ پر حرکت دینے سے گیند گھومتی اور اپنے ساتھ سیاہی کاغذ پر منتقل کرتی تھی۔ یہی بنیادی طریقہ آج بھی بال پوائنٹ قلم میں استعمال ہوتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی فضائیہ نے بائرو قلم میں خاص دلچسپی ظاہر کی۔ جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو دورانِ پرواز نوٹس لکھنے کی ضرورت پیش آتی تھی، لیکن زیادہ بلندی پر فاؤنٹین پین کی سیاہی کے رسنے کا مسئلہ پیدا ہوجاتا تھا۔

بال پوائنٹ قلم اس مسئلے سے بڑی حد تک محفوظ تھا، جس کے باعث برطانوی فضائیہ نے بڑی تعداد میں یہ قلم حاصل کیے۔جنگ کے بعد مختلف کمپنیوں نے بال پوائنٹ قلم تیار کرنا شروع کیے، تاہم ابتدائی دور میں یہ عام صارف کی پہنچ سے باہر تھے۔ 1950 کی دہائی میں فرانسیسی کاروباری شخص مارسل بِک نے اس ڈیزائن کو سستا اور بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے قابل بنایا۔ اسی دور میں مشہور بِک کرسٹل قلم سامنے آیا، جس نے بال پوائنٹ قلم کو دنیا بھر میں عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔بال پوائنٹ قلم کی کامیابی کی بڑی وجہ اس کا سادہ، کم خرچ اور قابلِ اعتماد ہونا تھا۔ اس کے لیے دوات ساتھ رکھنے یا بار بار سیاہی بھرنے کی ضرورت نہیں تھی اور اسے فوری طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔بال پوائنٹ قلم نے لکھنے کے عمل کو نہ صرف آسان بنایا بلکہ اسے زیادہ قابلِ رسائی بھی کردیا۔ آج یہ قلم اسکولوں، دفاتر، گھروں، دکانوں، بینکوں اور کاروباری اداروں سمیت تقریباً ہر جگہ استعمال ہوتا ہے۔وقت کے ساتھ رولر بال، جیل، فائبر ٹِپ اور اسپیس پین سمیت کئی نئی اقسام کے قلم بھی سامنے آئے، تاہم عام بال پوائنٹ قلم کا بنیادی اصول آج بھی تقریباً وہی ہے جو لاسلو بیرو نے کئی دہائیاں قبل متعارف کرایا تھا۔ایک چھوٹی سی دھاتی گیند اور سیاہی کے سادہ نظام پر مبنی یہ ایجاد اس بات کی مثال ہے کہ بظاہر معمولی نظر آنے والی ٹیکنالوجی بھی انسانی روزمرہ زندگی میں بڑی تبدیلی لاسکتی ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…