اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو مسجد میں تعینات پولیس کے دستے کی جانب سے جمعے کو کوئی ریلی نکالنے یا کسی بھی قسم کے عوامی خطاب سے روکا جائے گا.پولیس اور انتظامیہ کے افسران نے جمعرات کو نجی ٹی چینل کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز، لال مسجد کو اپنے ذاتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے تھے تاکہ ان کے داماد کی واپسی کو محفوظ بنایا جاسکے.رواں ہفتے بدھ کو کمشنر آفس اور لال مسجد سے ملحق جامعہ حفصہ میں مولاناعبد العزیز سے مذاکرات کچھ زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے کیوں کہ مولانا نے انتظامیہ کے اکثر مطالبات قبول کرنے سے انکار کردیا تھا.پولیس کے مطابق مولانا عبدالعزیز کی دو بیٹیاں ہیں، جو دونوں بیوہ ہیں. ایک بیٹی کی دوسری شادی کی گئی، تاہم مولانا عبدالعزیز کے نئے داماد سلمان غازی تقریباً 4 ماہ قبل لاہور سے لاپتہ ہوگئے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ مولانا عبدالعزیز اپنے مغوی داماد کی بازیابی کے لیے ایجنسیز پر دباو¿ ڈال رہے ہیں۔دوسری جانب خطیب لال مسجد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے اپنے داماد کی گمشدگی کا الزام ایجنسیز پر عائد کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے کیونکہ لاپتہ شخص لاہور سے جون کے مہینے میں غائب ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے تحریک نفاذ قرآن و سنت کے آغاز کی دھمکی دے رکھی ہے، جس کی وجوہات خالصتاً ذاتی ہیں۔ایک اور عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ مذاکرات کے گذشتہ 2 ادوار کے دوران مولانا عبدالعزیز کو مسجد اور جمعے کے خطبے کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کا کہا گیا تھا تاہم وہ اس حوالے سے کسی قسم کی یقین دہانی کرانے کے لیے رضامند نظر نہ آئے۔نتیجتاً ذرائع کے مطابق کم از کم 800 پولیس اہلکاروں کو جمعے کی صبح لال مسجد کے باہر تعینات کردیا گیا، جبکہ لال مسجد سے منسلک دیگر مذہبی مدارس کی بھی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔مولانا عبدالعزیز کی شہدا فاو¿نڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام احمد نے تصدیق کی کہ مولانا کا ایک مطالبہ ان کے داماد کی واپسی کا تھا، “جنھیں 24 جون کو لاہور سے اغوا کرلیا گیا تھا۔”ان کا کہنا تھا، “ہم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مولانا عبدالعزیز جمعے کی نماز پڑھانے کے لیے لال مسجد نہیں آئیں گے اور جمعے کا خطبہ ٹیلی فون کے ذریعے دیں گے۔”ترجمان نے مزید کہا کہ انھوں نے مولانا عبدالعزیز کی سیکیورٹی کے لیے بھی درخواست کی ہے۔یاد رہے کہ 2 ہفتے قبل شہدا فاو¿نڈیشن نے اعلان کیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز تحریک نفاذ قرآن و سنت کا آغاز کریں گے ، جس کا باقاعدہ اعلان جمعہ 13 نومبر کو کیا جائے گا، جس کے بعد وفاقی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ افسران نے ان سے رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ چونکہ ان کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ‘فورتھ شیڈول لسٹ’ میں شامل ہے، لہذا اگر وہ انتشار پھیلانے میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔گذشتہ جمعے کے اجتماع کے بعد وفاقی انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیزکو تحریری طور ہر خبردار کیا کہ وہ فورتھ شیڈول لسٹ میں شامل دیگر افراد کی طرح تمام شرائط پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔تاہم جب اس حوالے سے ایس ایچ او آبپارہ پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں پولیس کی غیر معمولی تعیناتی نہیں کی گئی۔
لال مسجد خطیب کی سرگرمیاں، خطرے کی گھنٹی بج گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیپلزپارٹی نے 10 رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا
-
جشنِ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان
-
راولپنڈی: مشہور ٹک ٹاکر خاتون کو گھر سے بلاکر ہلاک کردیا گیا، چھوٹی بہن بھی زخمی
-
وزیر خزانہ کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
متحدہ عرب امارات نے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پروازیں منسوخ کردیں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق اچھی خبر سامنے آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)
-
سعودی عرب میں حکومتی سطح پر بڑی تبدیلی، شاہ سلمان نے 3 شاہی فرمان جاری کردیئے
-
بیوی نے شوہر کو نیند کی گولیاں کھلا کر بلّے سے پیٹا اور زندہ دفنا دیا
-
کونسی غذاؤں کے زیادہ استعمال سے مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت گر گئی
-
3 منٹ کی وہ ورزش جو 90 منٹ کی سائیکلنگ سے زیادہ فائدہ مند ہوسکتی ہے؛ تحقیق
-
بھارت: دوست کیساتھ گاڑی میں جانے والی خاتون سے 6 افراد کی زیادتی



















































