پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

قطرمیں ایشیائی مزدوروں کو شاپنگ مالز سے دور رکھنے کا فیصلہ

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

دوحہ (نیوزڈیسک)قطر کی میونسپل کونسل شاپنگ مالز کو ایک دن کے لیے صرف خاندانوں کے لیے مختص کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد پر غور کر رہی ہے اور اس روز مزدوروں کو ان مالز میں داخلے کی ہرگز بھی اجازت نہیں ہوگی۔عرب ٹی وی کے مطابق اس پالیسی کے تحت جمعہ کے روز شاپنگ مالز میں صرف بیوی بچوں سمیت آنےوالے مردوں (خاندانوں) کو داخلے اور خریداری کرنے کی اجازت ہوگی۔ جمعے کو قطر میں عام طور پر مزدوروں کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے اورمگر وہ کسی قسم کی خریداری کےلئے شاپنگ مالز میں نہیں آسکتے ہیں۔قطر کو اس پالیسی پر عمل درآمد کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور بہت سوں نے اس کو نسل پرستانہ بھی قرار دیا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس سے صرف جنوبی ایشیا کے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ہی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ خاندانوں کے بغیر قطر میں رہ رہے ہیں جبکہ مغربی یا عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن سے یہ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔دوحہ کے مشہور شاپنگ مالز سٹی سنٹر اور ویسٹ بے نے سکیورٹی افسروں کی جانب سے اس پر یکسوئی کے ساتھ عمل درآمد نہ کرانے کے بعد اس پالیسی کو ختم کردیا تھا۔اس ضابطے کے تحت صرف اپنی رشتے دار خواتین کے ساتھ آنے والے مردوں ہی کو ان بڑے خریداری مراکز میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے اور تنہا آنے والے مردوں کو سکیورٹی گارڈ اندر داخل نہیں ہونے دیتے ہیں۔لیکن اس پالیسی کا پاکستان ،بھارت اور نیپال سے تعلق رکھنے والے مردوں اور بالعموم کنواروں پر اطلاق کیا جاتا ہے اور انھیں شاپنگ مالز میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔ایک شاپنگ مال کے سکیورٹی محافظ کا کہنا ہے کہ ہم ان لوگوں کو شکل وصورت اور لباس سے ہی پہچان لیتے ہیں،اس لیے انھیں روک دیتے ہیں۔ایک نیپالی تارک وطن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اس پالیسی سے لگتا ہے کہ ہم انسان ہی نہیں ہیں۔ہماری بھی خواہش ہوتی ہے کہ ہم شاپنگ مالز میں دوسرے لوگوں کی طرح خریداری کریں لیکن ہمیں ایک ایسے ملک میں اچھوت بنا دیا گیا ہے جس کی تعمیر وترقی میں ہم بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…