ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ترکی، شہابی پتھر کے ٹکڑوں نے گا ﺅںوالوں مالامال کردیا

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ترکی کے دیہات میں گرنے والے شہابی پتھر کے ٹکڑے کو دیہاتی فروخت کر کے مالامال ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دیہاتیوں نے ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر شہابی پتھر کو فروخت کر کے کما ئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کے بنگول صوبے میں ساری سیسیک کے مقامی باشندے دیہات کی خاک چھان کر ٹکڑے تلاش کر رہے ہیں اورساری سیسیک کے باشندوں نے ان شہابی ٹکڑوں کو بیچ کر گاڑیاں اور گھر خرید لیے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ شہابی ٹکڑے اس علاقے میں ستمبر میں گرے تھے۔رپورٹ کے مطابق ان شہابی پتھروں کی قیمت تقریبا 60 ڈالر فی گرام ہے۔ گاو¿ں کے تقریبا 3200 باشندوں میں سب سے خوش قسمت 30 سالہ حسن بلدک نکلا جسے زمین پر گرے شہابی ٹکڑوں میں سب سے وزنیڈیڑھ کلو کا شہابی ٹکڑا ملا۔ اس نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ شہابی پتھر ڈھونڈھنے میں اسے تین چار گھنٹے لگے اور آخر اسے مٹی میں ایک چمکیلا پتھر مل گیا۔ میڈیا کے مطابق بلدک نے اس ٹکڑے کی20 ہزار امریکی ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس کاکہناتھا کہ شہابی پتھر بیچ کر اسے جو پیسے ملیں گے اس سے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ استنبول میں پیسٹری کی دکان کھولے گا۔ 2013 میں ایک شہابی پتھر روس کی جھیل میں گرا تھا اور اس کے ٹکڑے وسیع علاقے میں پھیل گئے تھے۔ ترکی میں گرنے والا یہ پتھر معدنیات کے لحاظ سے سائنسی دلچسپی کا باعث نہیں ہے تاہم محقوق اور نوادرات کو اکٹھا کرنے والے افراد کی نگاہ میں بڑے ٹکڑے کی ابھی بھی بہت قدر و قیمت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…