جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

عدد 13 کی نحوست کا تصور شام وعراق سے چلا اور مغرب نے اپنا لیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

انسان کی مادی ترقی کا سفر جس تیزی سے جاری ہے مگر اس کے ذہن میں دور قدیم سے جاگزیں خیالات، مفروضے اور دیو مالائی داستانوں پر یقین آج بھی قائم ہے، جو صدیوں قبل تھا۔ توہمات کی دنیا میں بسنے والا انسان آج بھی اس کے سحر سے باہر نہیں آ سکا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں انسان کی اسی توہم پرستی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ توہم پرستی کے بے شمار مظاہر ہیں مگر ایک حالیہ واقعے کا منحوس سمجھی جانے والی تاریخ میں ظہور پذیر ہونا محض اتفاق ہے یا واقعی یہ تاریخ اور دن جب ایک ساتھ آئیں تو انسان کے لیے خیر نہیں بلکہ اجتماعی شر لے کر آتے ہیں؟مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں “13” کا عدد منحوس خیال کیا جاتا ہے مگر کئی معاشروں میں اس کی نحوست کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ اگر کسی مہینے کی 13 تاریخ آئیں تو وہ مہینہ، وہ دن اور تاریخ منحوس خیال تصور کیے جائیں گے۔گذشتہ نومبر کی 13 تاریخ تھی اور اہل مغرب کے ہاں اس دن کو مںحوس سمجھا گیا تھا۔ اسی دن اور تاریخ میں فرانس میں دہشت گردی کی خوفناک واردات وقوع پذیر ہوئی جس میں 128 فراد ہلاک اور 360 زخمی ہوئے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت میں جمعہ کا دن اور 13 تاریخ ایک ساتھ آئے تو فرانس میں قیامت برپا ہو گئی۔دنیا بھر میں 13 تاریخ کو منحوس سمجھنے والے لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو مادی اعتبار سے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بستے ہیں۔ “13 تاریخ ” ایک ساتھ آئیں تو کیوں کر مںحوس تصور ہوں گے؟ اس مفروضے کی اصل کیا ہے اور یہ کہاں سے شروع ہوا۔ کن لوگوں نے اس میں کمی بیشی کی؟ اس کے حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق لاکھوں مفروضے اور تصورات موجود ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا تصور عرب دنیا سے ابھرا۔ کچھ لوگ صرف “13” کے عدد کو منحوس تصور کرتے ہیں۔امریکا میں انیسویں صدی میں “سمندری بیمہ” کی ایک کمپنی “لویڈز” نے فیصلہ کیا کہ اس کے جہاز ہر مہینے کی اس 13 تاریخ کو بحری سفر نہیں کریں گے جس میں جمعہ بھی آ رہا ہو۔ یہ کمپنی آج بھی اپنے اس اصول پر قائم ودائم ہے۔ امریکا میں سمندری سفر کے لیے آج بھی یہی اصول کار فرما ہے۔ جرمنی میں 13 اگست بروز جمعہ 1961ء کو دیوار برلن تعمیر کی گئی جس نے جرمنی کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ یوں جرمنی میں بھی اس دن اور تاریخ کو ایک ساتھ آنے پر منحوس خیال کیا جانے لگا۔ دیوار برلن 28 سال تک 29 نومبر 1989ء تک جرمنی کے درمیان حائل رہی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے “جمعہ 13” تاریخ کی نحوست کی تاریخی حقائق کی چھان پھٹک سے یہ امر مترشح ہوا کہ اس کا آغاز شام اور عراق میں اریانی اور سریانی دور میں ہوا۔ عیسائی مذہبی اعتبار سے اتوار کو اہمیت دیتے اور بابرکت دن تصور کرتے۔ صدیوں قبل اہل کلیسا اتوار کو دنیاوی کام کاج کو اللہ کی ناراضی قرار دیتے تھے اور لوگوں کو اس دن صرف عبادت وریاضت کی طرف متوجہ کرتے۔ جو شخص اس دن دنیاوی کام کاج کرتا تو اسے اللہ کی سخت پکڑ کی وعید سناتے۔
ان کا خیال تھا کہ اگر کسی مہینے کا آغاز اتوار کے دن سے ہو رہا ہے تو وہ مہینا نحوست کا پیغام لائے گا کیونکہ لا محالہ اس کی 13 تاریخ کو جمعہ ہو گا۔یہی تصور آج بھی جنوبی اور شمالی امریکا اور کینیڈا میں موجود ہے۔ برازیل کے لوگ کسی مکان، ہوٹل یا کسی بھی دوسری عمارت کا نمبر 13 نہیں رکھتے اور نہ ہی ان میں 13 عدد کی کوئی منزل ہوتی ہے۔ یہ تاریخ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے منحوس خیال کی جاتی ہے۔
۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…