جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ترکی نے جرمنی کو بڑے خطرے سے بچالیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

انقرہ(نیوزڈیسک)جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق یہ آٹھوں افراد، جو ممکنہ طور پر مراکش کے شہری ہیں، کاسابلانکا سے استنبول پہنچے تھے۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق یہ افراد خود کو سیاح قرار دے رہے تھے۔ ان افراد نے حکام کو بتایا کہ انہوں نے ایک ہوٹل میں بکنگ کرا رکھی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق پولیس نے جب اس بات کی تصدیق کی تو یہ غلط ثابت ہوئی۔ یہ افراد منگل 17 نومبر کو دیر گئے استنبول پہنچے تھے۔انادولو نیوز ایجنسی کی طرف سے ایک دستاویز بھی جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اس گروپ سے برآمد ہوئی ہے۔ اس دستاویز میں جرمنی تک پہنچنے کے راستے کی منصوبہ بندی موجود ہے۔ اس منصوبے کے مطابق یہ افراد ترکی کے مغربی حصے کے شہر ازمیر سے ایک کشتی کے ذریعے یونان پہنچنا چاہتے تھے۔ ایتھنز سے اس گروپ نے مشرقی یورپ کے راستے ویانا پہنچنے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی، جب کہ وہاں سے حتمی طور پر وہ جرمنی پہنچتے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک حکام رواں برس کے آغاز سے اب تک شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے تعلق رکھنے کے شبے میں ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر چکے ہیں۔ رواں برس جولائی میں انقرہ کی طرف سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر چھاپوں کا سلسلہ بڑھا دیا گیا تھا۔ اب تک 300 کے قریب افراد پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔
روئٹرز کے مطابق پولیس نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ سے 41 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ مراکش سے آنے والے ان افراد کو ایک ساتھی مسافر کی طرف سے پولیس کو مطلع کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 20 افراد کو فوری طور پر مراکش واپس بھیج دیا گیا تھا۔ ڈی پی اے کے مطابق مراکش میں بھی رواں ہفتے ایسے چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن پر شبہ ہے کہ وہ اسلامک اسٹیٹ کے ایک سیل سے تعلق رکھتے ہیں۔یورپی یونین تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے ترکی ایک اہم پڑاؤ ہے جہاں سے وہ کشتیوں کے ذریعے یونان تک پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے یورپ کے دیگر ممالک کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔پیرس میں جمعہ 13 نومبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تیزی آ گئی ہے۔ پیرس کے مختلف عوامی مقامات پر کیے جانے والے ان حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…