بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

تمام جماتیں متحد، اتفاق ہو گیا، مگر کس بات پر؟ جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 2  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی صدارات میں ہونے والی آج کی قومی کانفرنس بانچ گھنٹے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی جس کے دوران فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے آرمی کورٹس کیلئے ترمیم کرنے کے حوالے سے مکمل اتفاق کیا ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویزرشید نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں آج کا دن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج فیصلوں کوحتمی شکل دے دی گئی ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالتوں کےقیام کےلیےآئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی کیونکہ بچوں اور معصوم شہریوں کے قاتلوں کا ٹرائل عام عدالتوں میں ممکن نہیں ہے۔

پرویزرشید نے کہا کہ قومی قیادت نےفوجی عدالتوں کے لئے ترمیم پر اتفاق کرلیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کےقیام کا بل پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا اور منگل کوسینیٹ میں بھی آئینی ترمیم بل کو پیش کردیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ 17 دسمبر کو ملک کی سیاسی قیادت کا پہلا اور دوسرا اجلاس 24 دسمبر کو ہوا تھا اور 24 دسمبر کو سفارشات پیش کی گئیں تھیں، جنہیں آج کے اجلاس میں منظور کرلیا گیا ہے۔

اس سے قبل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی قیادت جس ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم وہ دن دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی اپنے گھر میں محفوظ ہو۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کو ختم کرنے اور فتنہ پھیلانے والی تنظیموں کے خاتمے کا آغاز ہوگیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ حتمی فیصلہ کرلیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے 20نکات پر اتفاق کیا ہے اور 7 روز میں کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے اجلاس میں آئینی ترامیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم پر اتفاق بھی ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایکشن پلان پر15دن بحث کرلی ہے اب اس پر پارلیمان میں بحث کی گنجائش نہیں رہتی۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم اب ایکشن پلان کو ایکشن میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ اجلاس میں جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کیخلاف ہونے والی پہلی اے پی سی میں پیدا ہونے والے اتفاق رائے کو برقراررکھنا ہوگا اور ہمیں اپنے فیصلوں کے نفاذ پرتوجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عدالتیں فوج کی خواہش نہیں بلکہ وقت کا تقاضا ہیں۔ حالات بہتر ہونے پردوبارہ اصل نظام بحال ہوجائے گا۔ معاشرے یا ریاست کے طور پر ناکام ہونے کا تصور نہیں کرسکتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے آج کے فیصلے قوم کی منزل کا تعین کریں گے۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے جب کہ جیت ہماری ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…