پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

گیس کمپنیو ں کا گھریلو صارفین کے سیکیورٹی ڈپازٹ میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن) ملک میں بڑھتے ہوئی گیس چوری اور سسٹم لاسسز کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کی دونوں اہم گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹیڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹیڈ (ایس ایس جی سی ایل) نے گھریلو صارفین کے سیکیورٹی ڈپازٹ میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا ہے۔مذکورہ اضافے سے دونوں کمپنیوں کو مجموعی طور پر 9 ارب روپے حاصل ہوں گے۔اگر دونوں گیس فراہم کرنے والی ان کمپنیوں کے اس مطالبے کو تسلیم کرلیا جاتا ہے تو گیس کے 7 کروڑ گھریلو صارفین کو اضافی 1500 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ موجودہ سیکیورٹی ڈپازٹ کی رقم 3000 روپے ہے۔خیال رہے کہ مزکورہ اضافے سے یہ رقم 4500 رو پے ہو جائے گی اور یہ اضافہ آئندہ کے گیس بلوں میں شامل کردیا جائے گا۔دوسری جانب ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ گیس کے گھریلو صارفین کے لیے موسم سرما کے 3 ماہ کے استعمال کے مطابق گیس کی سالانہ قیمتوں میں اضافہ کرسکیں تاکہ صارف کے ڈفالٹ کرنے کی صورت میں یہ رقم اس کے سیکیورٹی ڈپازٹ سے ایڈجسٹ کیا جاسکے۔یاد رہے کہ 2013 میں ان دونوں گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے نئے گھریلوں صارفین کے سیکیورٹی ڈپازٹ کو بڑھا کر 4500 پر فکس کردیا تھا لیکن اس اضافے کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پرانے صارفین پر لاگو کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔گذشتہ سال گیس فراہم کرنے والی دونوں کمپنیوں کو زیادہ مقدار میں گیس استعمال کرنے والے صارفین کے سیکیورٹی ڈپازٹ میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔اسی طرح اس بار یہ دونوں کمپیناں تمام گھریلو صارفین کے سیکیورٹی ڈپازٹ میں بغیر کسی عوامی سماعت کے 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کررہی ہیں۔تاہم اوگرا نے اس اضافے سے متعلق عوامی سماعت لاہور اور کراچی میں رواں ماہ کے آخر میں کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔واضح رہے کہ ایس این جی پی ایل کے 4 کروڑ 30 لاکھ گیس صارفین ہیں جبکہ ایس ایس جی سی ایل کے 2 کروڑ 5 لاکھ گیس صارفین ہیں اور اس اضافے سے 75 فیصد گیس کے گھریلوں صارفین متاثر ہوگے۔دو کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر مذکورہ اضافہ ضروری ہے تاکہ صارف کے ڈفالٹ ہوجانے کی صورت میں متعلقہ رقم اس کے سیکیورٹی ڈپازٹ سے ایڈجسٹ کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…