اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے چند حقائق

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے 15 سال مکمل ہونے پر امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اس کے بارے میں چند دلچسپ معلومات شائع کی ہیں۔
پہلی مہم
بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی سب سے پہلی مہم دو نومبر 2000 کو بھیجی گئی تھی۔ اس مہم کے عملے میں ولیم شیپرڈ، سرگے کریکالوف اور یوری گڈزینکوف شامل تھے۔
خلائی سٹیشن تعلیمی سرگرمیاں
یہ سٹیشن اپنے مدار پر دنیا بھر میں تقریباً سوا چار کروڑ طالبعلموں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔
بین الاقوامی خلائی سٹیشن کا وزن
بین الاقوامی خلائی سٹیشن وزن میں چار لاکھ 21 ہزار کلوگرام کے لگ بھگ ہے اور اس کے حجم کے حساب سے ہوا کا دباو¿ اتنا ہی ہے جتنا کہ بوئنگ 747 ہوائی جہاز میں ہوتا ہے۔ یہ چھ کمروں پر مشتمل ایک گھر جتنی رہنے کے قابل جگہ مہیا کرتا ہے۔
شائع ہونے والے جریدے
12 سو سے زائد سائنسی نتائج پر مبنی مطبوعات تیار کی جا چکی ہیں۔
خلائی چہل قدمی
امریکہ اور روس کی جانب سے خلا میں 180 سے زائد مرتبہ خلائی چہل قدمی کی جا چکی ہے۔
17 ممالک اور 220 خلا باز
خلائی سٹیشن مشترکہ بین الاقوامی کاوش ہے اور 2000 سے اب تک 17 ممالک کے 220 افراد خلائی سٹیشن کا سفر کر چکے ہیں۔
کھانا
پہلی خلائی مہم سے اب تک وہاں ساڑھے 26 ہزار بار کھانا کھایا جا چکا ہے۔ چھ ماہ کے لیے تین افراد پر مشتمل عملے کے لیے اندازاً سات ٹن سامان درکار ہوتا ہے۔ عملے کے کچھ افراد کی پسند میں شرمپ کاک ٹیل، ٹورٹیاز اور میکرونی اور پنیر شامل ہیں۔
22 تحقیقات
پہلی خلائی مہم کے دوران 22 سائنسی تحقیقات کی گئی تھیں جبکہ مہم 45 اور 46 کے دوران 191 تحقیقات کی جائیں گی۔
29 الماریاں
خلائی سٹیشن پر اہم آلات پر مشتمل فرج کی قامت کی 29 الماریاں موجود ہیں جن میں 15 الگ سے منسلک ہوجانے والی پےلوڈز ڈیوائسز بھی شامل ہے۔
83 ممالک سے زیادہ
مدار میں گردش کرنے والی لیبارٹری پر اب تک 83 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے 1760 تحقیقات کی ہیں۔

150622155904_iss_640x360_ap_nocredit

واٹر ریکوری سسٹم
خلائی سٹیشن میں نصب واٹر ریکوری سسٹم کے باعث وہاں پہنچائی جانے والی رسد کے پانی پر عملے کا انحصار یومیہ ایک گیلن سے 65 فیصد کم ہو کر 0.34 گیلن ہوگیا ہے۔ مستقبل میں خلا کی گہرائیوں میں بھیجی جانی والی مہمات کے لیے خلائی سٹیشن کی یہ سہولیات اہم کردار ادا کریں گی۔
تھری ڈی پرنٹر
خلائی سٹیشن پر تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے اب تک 13 مختلف ڈیزائنوں پر مشتمل 20 چیزیں پرنٹ کی جا چکی ہیں۔
پہلی تحقیق
خلائی سٹیشن پر کی جانے والی سب سے پہلی تحقیق پروٹین کرسٹل گروتھ تھی جس کا آغاز انسانوں کے وہاں پہنچنے سے بھی قبل کر دیا گیا تھا۔ پروٹین کرسٹل کی تحقیق زمین پر مختلف بیماریوں اور عوارض جیسے ڈوشین مسکیولر ڈسٹروفی (پٹھوں کی بیماری) کے علاج میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
عملہ ایک لاکھ سے زائد
خلائی سٹیشن کے پروگرام میں خلائی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد افراد، امریکہ کی 37 ریاستوں اور 16 دیگر ممالک میں 500 عمارات شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…