اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک فنانسنگ کے رجحان میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں آٹو فنانسنگ کا حجم بڑھ کر 386 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں گاڑیوں کے لیے بینک قرضوں کا مجموعی حجم 286 ارب روپے تھا، یوں ایک سال کے دوران آٹو فنانسنگ میں 35.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی اور جون 2026 کے 382 ارب روپے کے مقابلے میں جولائی میں فنانسنگ 1.2 فیصد بڑھ گئی۔ماہرین کے مطابق آٹو فنانسنگ میں اضافے کے پیچھے بینکوں کی جانب سے صارفین کو زیادہ قرضوں کی فراہمی اور گاڑیوں کے قرضوں کی طلب میں بہتری اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2026 تک نجی شعبے کے قرضوں کا حجم سالانہ بنیاد پر 15 فیصد اضافے کے ساتھ 10.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جو جولائی 2025 میں 9.5 ٹریلین روپے تھا۔دوسری جانب گھروں کی تعمیر کے لیے حاصل کیے جانے والے بینک قرضوں میں بھی اضافہ ہوا۔ جولائی میں ہاؤسنگ کنسٹرکشن فنانسنگ 37.2 فیصد بڑھ کر 286 ارب روپے ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 263 ارب روپے تھی۔کریڈٹ کارڈز کے ذریعے صارفین کے قرضوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
جولائی 2026 میں کریڈٹ کارڈ فنانسنگ 30.5 فیصد اضافے کے بعد 212 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی 2025 میں یہ حجم 163 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق صارفین اور نجی شعبے کے مختلف شعبوں کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی بڑھنے سے مجموعی فنانسنگ میں بہتری آئی ہے، جس کا نمایاں اثر آٹو فنانسنگ پر بھی پڑا اور یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فنانسنگ میں اضافہ آٹو سیکٹر کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوسکتا ہے، تاہم اسے گاڑیوں کی فروخت میں اسی تناسب سے اضافے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فنانسنگ کی مجموعی رقم، قرض کی واپسی کی مدت، ادائیگی کے طریقہ کار اور صارفین کی کریڈٹ پروفائل جیسے عوامل بھی آٹو مارکیٹ کی صورتحال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔



















































