منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

افغان جنگ میں جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کی غلطیاں،اویس نورانی کے اپنے والد کے حوالے سے انکشافات

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ امام انقلاب امام شاہ احمد نورانی صدیقی نے چار دہائی پہلے ہی جنرل ضیاءکو عسکری دہشت گردی کے گرہوں کی تباہی سے آگاہ کردیا تھا مگر اس وقت پاکستان کے جنرل امریکی امداد کے حصول کے لئے پے رول ایجنڈ کا کرداد ادا کر رہے تھے، انہوں نے پورے ملک میں جگہ جگہ دہشت گردی کے کارخانے بنا دیئے، جن سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دہشت گرد تیار کر کے امریکہ اور روس کی جنگ میں جھونک دیئے گئے، مگر اس وقت ان کارخانوں کے مالکوں نے یہ نہ سوچا کہ جب جنگ ختم ہوجائے گی تو یہ ہزاروں تربیت یافتہ دہشت گرد کہاں جائینگے؟ بعد کے جنرل اور آمروں نے بھی اس روش کو برقرار رکھا، جنرل مشرف کراچی کے 35000نوجوانوں کے اصل قاتل ہیں، انہوں نے دم توڑتے ہوئے دہشت گردوں کو آکسیجن فراہم کی اور ان کے لئے آسائشیں اور آسانیاں پیدا کی ، آج اگر کوئی شخص مشرف کی روشن خیال آزادی کی بات کرتا ہے تو وہ پس منظر میں ہزاروں قتل اور سینکڑوں خودکش دھماکے بھی دیکھے، جنرل مشرف اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، موجودہ فوجی قیادت ، حکومت، پالیمنٹ اور عدلیہ سب کے سب ایک صفحہ پر ہیں، مشرف کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دینا ملک کی عزت کو داﺅ پر لگانے کے مترادف ہے جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی بھی ہوئی ہے، پاکستان ویسے ہی عالمی دباﺅ میں ہے، جمعیت علماءپاکستان کی سندھ سطح کی بلدیاتی کمیٹی کو فون پر پیغام دیتے ہوئے جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ جنرل مشرف نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے بیان کو کس حیثیت میں لیا جائیگا؟ جمعیت علماءپاکستان ملک کی واحد جماعت تھی جس نے 1979میں بھی عسکریت پسند وں کی فیکٹریوں کی مخالفت کی تھی اور 1999میں کراچی کی عسکری ودہشت گرد جماعت کو دوسری زندگی دینے کی مخالف کی تھی، مشرف نے اپنے دور میں ہر طرح کے عسکری عناصر کو مستحکم کیا اور پھر ان کا استعمال کیا، اگر جنرل ضیاء1979 کی عسکری فیکٹریاں نہ بناتے تو پشاور جیسے سانحات کبھی نہ ہوتے،بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہاکہ 31کے پہلے مرحلے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن پر شدید ترین تحفظات ہیں، قومی و صوبائی الیکشن کی طرح بلدیاتی الیکشن بھی فکس لگ رہے ہیں ، حیدرآباد میں سیاسی ROsنے ہمارے امیدوراں کو ڈرا دھمکا کر فارم رد کردیئے ہیں، سندھ بھر کے ROs تقریبا سیاسی بھرتیاں ہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…