جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

اے ٹی ایم طرز کی مشین سے بنوائیں شناختی کارڈ ! نادرا کی نئی سہولت

datetime 13  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)شہریوں کو شناختی کارڈ کے حصول اور تجدید میں سہولت فراہم کرنے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اے ٹی ایم کی طرز پر جدید سیلف سروس کیوسکس متعارف کرادیے ہیں۔

نادرا کے اس نئے نظام کے بعد شہری متعدد شناختی خدمات کے لیے کاؤنٹر پر جانے یا طویل قطار میں انتظار کرنے کے بجائے خودکار مشینوں کے ذریعے اپنی درخواست کا عمل مکمل کرسکیں گے۔سیلف سروس کیوسکس سے شناختی کارڈ کی تجدید، نائیکوپ کی تجدید، گم یا خراب ہونے والے شناختی کارڈ کا دوبارہ اجرا، دستاویزات کی منسوخی اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ سمیت مختلف سہولیات حاصل کی جاسکیں گی۔شہری کیوسک کی ٹچ اسکرین پر مطلوبہ سروس منتخب کرنے کے بعد ہدایات کے مطابق مراحل مکمل کریں گے، جبکہ شناخت کی تصدیق کے لیے مشین پر فنگر پرنٹ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق بھی کی جائے گی۔نادرا کے ترجمان سید شباہت علی کے مطابق اس خودکار نظام کے ذریعے تقریباً 65 سے 70 فیصد شہریوں کی درخواستیں کاؤنٹر پر جائے بغیر نمٹائی جاسکیں گی، جس سے رجسٹریشن مراکز میں رش اور انتظار کے وقت میں کمی متوقع ہے۔

دوسری جانب نادرا نے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی کی 18 منتخب ای سہولت فرنچائزز پر شناختی کارڈ کے ری پرنٹ کی سہولت کا پائلٹ منصوبہ بھی شروع کردیا ہے۔شہری پاک آئی ڈی (PakID) موبائل ایپ اور آن لائن پورٹل کے ذریعے بھی گھر بیٹھے شناختی دستاویزات سے متعلق اپنی درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔حکام کے مطابق ایسے معاملات جن میں اضافی دستاویزات یا پیچیدہ بائیومیٹرک تصدیق درکار ہوگی، ان کے لیے ملک بھر میں موجود 963 رجسٹریشن سینٹرز، 14 میگا سینٹرز اور 234 موبائل رجسٹریشن وینز بدستور دستیاب رہیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…