اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے ردعمل میں بھارت کی جانب سے اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کرنے کی درخواست سے متعلق وائرل دعوے کو جعلی خبر قرار دے کر مسترد کردیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترک میڈیا ادارے اسٹریٹورکا کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی، جسے بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا، رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے حقائق کی جانچ کرنے والے شعبے نے مذکورہ رپورٹ کا عکس شیئر کرتے ہوئے اسے واضح طور پر ’جعلی خبر‘ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل سے ایسے کسی دفاعی معاہدے کی درخواست کیے جانے کا دعویٰ درست نہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر بھی بھارت کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، بھارت اس پیش رفت کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے اور اس حوالے سے میڈیا کو مزید معلومات سے آگاہ کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔



















































