ایتھنز (نیوز ڈیسک)یونان میں ایک حیران کن واقعے نے سب کو چونکا دیا،
جہاں پولیس نے ایک 55 سالہ شخص کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے اپنے والد کی وفات کے بعد ان کی لاش ڈھائی سال سے زائد عرصے تک فریزر میں چھپا کر رکھی تاکہ ان کی پنشن کی رقم مسلسل وصول کرتا رہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم نے اپنے 90 سالہ ریٹائرڈ استاد والد کی میت کو خاندان کی ملکیت میں موجود ایک ویران ہوٹل کے تہہ خانے میں رکھے فریزر میں محفوظ کر دیا تھا۔ مذکورہ ہوٹل یونان کے تاریخی مقام مائسٹراس کے قریب واقع ہے، جو قرون وسطیٰ کے اہم آثار قدیمہ میں شمار ہوتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ میں دعویٰ کیا تھا کہ اس کے والد رہائش کے لیے ایتھنز منتقل ہو چکے ہیں، تاہم بعد ازاں اس نے اعتراف کیا کہ ان کے والد کی تقریباً ڈھائی سال قبل طبعی موت ہوئی تھی، جس کے بعد لاش کو فریزر میں رکھ دیا گیا جہاں وہ منجمد حالت میں موجود رہی۔
تحقیقات کے دوران پڑوسیوں نے بھی بتایا کہ انہوں نے بزرگ شہری کو گزشتہ چار برس سے نہیں دیکھا، جس پر پولیس کو شبہ ہوا اور تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ بعد ازاں خالی ہوٹل کے تہہ خانے میں موجود فریزر سے لاش برآمد کر لی گئی۔
پولیس نے ملزم کے خلاف فراڈ، جھوٹے دعوے اور مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس کے قبضے سے ایک ایئرگن بھی ملی، جس کے باعث اس پر اسلحہ قوانین کی خلاف ورزی کی دفعات بھی عائد کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے بظاہر بزرگ شہری کی موت طبعی معلوم ہوتی ہے، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے عدالت نے ایک فرانزک ڈاکٹر مقرر کر دیا ہے، جو لاش کا تفصیلی معائنہ کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔



















































