جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

میر رضا کی قبر کشائی! عدالت نے فیصلہ سنادیا

datetime 6  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)عدالت نے کراچی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کی قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی ہے،

جبکہ ان کے والد اور ان کے وکیل نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیا سے گفتگو میں مقتول کے والد نے پوسٹ مارٹم، تفتیشی عمل اور پولیس کے رویے پر کئی سوالات اٹھائے، جبکہ وکیل نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کا دعویٰ کیا۔عدالت نے قبر کشائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو حکم دیا کہ میڈیکل بورڈ بناکر قبرکشائی کی جائے اور جتنا جلدی ہوسکے عدالتی حکم پر عمل کیا جائے۔قبل ازیں، میر رضا کے والد میر حسین اور ان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ کیس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔میر رضا کے والد میر حسین نے کہا کہ پولیس قتل کی تحقیقات کے بجائے معاملے کو فنانس اور سرمایہ کاری کی طرف موڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا، ”ہم اپنے بیٹے کے قتل کی بات کر رہے ہیں، لیکن کبھی فنانس کی بات کی جاتی ہے اور کبھی کوئی اور پہلو سامنے لایا جاتا ہے۔

اگر میرے بچے پر قرضہ تھا تو پورے ملک پر بھی قرضہ ہے۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اب تک واقعے کو باقاعدہ قتل تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مؤقف ریکارڈ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ، ”پولیس ہمارے سامنے کچھ اور بات کرتی ہے جبکہ میڈیا پر کچھ اور مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔”میر حسین نے پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا، ”پولیس کی جاری کردہ رپورٹ دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کس نوعیت کی تفتیش ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر اسامہ اب کہاں غائب ہے؟ پولیس کو یہ بھی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ میرے بیٹے کی شناخت کو کیوں مٹایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا کہ بیٹے کی موت کے صدمے سے ابھی تک نہیں نکل سکے اور اب قبر کشائی کا مرحلہ بھی ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔انہوں نے کہاکہ، ”پولیس سے جب رپورٹ طلب کی گئی تو وہ بھی میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد فراہم کی گئی،

لیکن ہمیں ہر صورت اپنے بیٹے کی موت پر انصاف چاہیے۔”اس موقع پر مقتول کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس سرجن کے دفتر نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل حقائق سامنے لانے اور موت کی حقیقی وجہ معلوم کرنے کے لیے قبر کشائی کی درخواست دینا پولیس کی ذمہ داری تھی، تاہم ایسا نہ ہونے پر والدین کو خود عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔وکیل کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے باوجود آج تک تفتیشی افسر نے مدعی کا باقاعدہ بیان قلمبند نہیں کیا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مختلف افواہوں کے باوجود پولیس کوئی ٹھوس شواہد جمع نہیں کر سکی، جبکہ ڈاکٹر اسامہ کی تیار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی پولیس سرجن کے دفتر میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔وکیل نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ادارے تفتیش کے ہر مرحلے پر مدعی کو اعتماد میں لیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…