اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

جسٹس بابرستار کے اسلام آباد میں سرکاری گھر کی الاٹمنٹ منسوخ کردی گئی

datetime 25  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ منتقل کیے جانے کے بعد جسٹس بابر ستار کے نام پر اسلام آباد میں الاٹ سرکاری رہائش منسوخ کر دی گئی ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ آفس نے 3 جولائی کو سرکاری رہائش کی الاٹمنٹ ختم کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار کو 30 روز کے اندر گھر خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹس میں بھی اس فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چونکہ ان کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ ہو چکا ہے، اس لیے سرکاری رہائش برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ گھر خالی کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت کا آغاز 3 جولائی، یعنی الاٹمنٹ منسوخ ہونے کی تاریخ سے شمار کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق تبادلے کے بعد جسٹس بابر ستار نے پشاور میں نئی سرکاری رہائش حاصل کرنے کے بجائے اسلام آباد والا گھر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم قواعد کے مطابق کسی بھی جج کو ایک وقت میں صرف ایک سرکاری رہائش رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد سیکیورٹی حکام مختصر وقت کے لیے جسٹس بابر ستار کی اسلام آباد رہائش پر بھی پہنچے، تاہم بعد ازاں واپس چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار اس وقت عدالتی تعطیلات پر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…