اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کی منظوری زیر غور ہے اور اس حوالے سے فیصلہ جلد متوقع ہو سکتا ہے۔
ایک امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف ایک بڑے عسکری آپریشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جو ماضی کی تمام کارروائیوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم تمام فوجی آپشنز میز پر موجود ہیں اور منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل فوری طور پر اس کارروائی کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم ان کے بقول امریکا اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی اضافی تعاون کی ضرورت نہیں۔اس سے قبل بھی امریکی صدر نے بحیرۂ احمر میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد سخت ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو امریکا انہیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا، کیونکہ حوثیوں کو تہران کی حمایت حاصل ہے۔ادھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات نے عالمی منڈی میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات تیزی سے قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور اگر کشیدگی کا سلسلہ نہ رکا تو پورا خطہ مزید بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔



















































