جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

datetime 6  جولائی  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبر پختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا جبکہ کیس میں تمام سول اپیلیں خارج کردی گئیں۔

زمین مالکان کے حق میں فیصلے برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔عدالت عظمی نے قرار دیا کہ زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، زمین کی مستقبل کی اہمیت بھی معاوضے کے تعین میں شامل ہوگی، اراضی کے حصول میں تاخیر سے قیمتوں میں اضافے کو بھی دیکھا جائے گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ منصفانہ معاوضہ ہر متاثرہ شہری کا آئینی حق ہے، ریاست عوامی مفاد میں زمین حاصل کرسکتی ہے، مگر مناسب معاوضہ دینا ہوگا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اراضی کے معاوضے کا اصول سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں ہونا چاہیے، متاثرہ مالک کو مکمل مالی انصاف ملنا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبر پختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد کردیں۔ کیس نہر منصوبے کیلئے حاصل کی گئی

اراضی کے معاوضے سے متعلق تھا، زمین مالکان نے سرکاری معاوضہ کم قرار دے کر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر زمین مالکان کا معاوضہ بڑھا دیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے بھی ریفرنس کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔خیبر پختونخوا حکومت نے بڑھا ہوا معاوضہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ نے کے پی حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو درست قرار دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…