پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

پا کستان ،خواتین کے بعد مرد بھی ورک پلیس ہراسمنٹ کا شکار ہونے لگے، ایک سال میں 521 مردوں نے ہراسگی کیخلاف کیس کیے

datetime 4  جولائی  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان میں خواتین کے بعد مرد بھی ہراساں ہونے لگے،مردوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ،ایک سال میں521مردوں کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہواہے،

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت میں درج شکایات 40فیصد مردوں کی نکلیں ،خواتین اور مردوں کو ہراساں کرنے کی شکایات میں سب سے زیادہ فوسپا کے ہیڈ آفس اسلام آباد پہلے اور پنجاب دوسرے نمبر پرہے۔ دستاویزات کے مطابق خواتین کے بعد مردوں نے بھی ہراسانی کیخلاف وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت سے رجوع کرنا شروع کردیا۔ مردوں نے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں سب سے زیادہ شکایات درج کروائیں جبکہ پنجاب دوسرے نمبر پر رہا۔ایک سال میں521مردوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کیخلاف وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت میں شکایات درج کروائیں۔مجموعی طور پر1290مرد و خواتین نے ہراسانی کی شکایات درج کروائیں۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے 1104ہراسانی کی شکایات نمٹا دیں۔

پشاور میں 42،کراچی میں 24اور بلوچستان میں دو مردوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا۔ایک سال میں 769خواتین نے بھی ہراسانی کی کیخلاف فوسپاہ سے رجوع کیا،سب سے زہادہ اسلام آباد سے 496خواتین نے ہراسانی کیخلاف شکایات درج کروائیں اور پنجاب میں 154خواتین کو ہراساں کرنے کے کیس سامنے آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…