ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سیف علی خان کا چاقو حملے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد نیا انکشاف

datetime 29  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے اپنے ممبئی والے گھر میں ہونے والے چاقو حملے کے واقعے پر ایک مرتبہ پھر گفتگو کرتے ہوئے کئی نئے انکشافات کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے نہ صرف انہیں نشانہ بنایا بلکہ ان کے کمسن بیٹے جہانگیر علی خان (جے) کو بھی معمولی زخمی کر دیا تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 16 جنوری 2025 کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں پیش آیا، جب ایک شخص مبینہ طور پر چوری کی نیت سے اداکار کے گھر میں داخل ہوا۔ مزاحمت کے دوران ملزم نے سیف علی خان پر متعدد وار کیے، جن میں سے ایک زخم ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب لگا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ایک حالیہ انٹرویو میں سیف علی خان نے اس خوفناک رات کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کی وہ گھڑیاں ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھیں اور ان کا اثر اب تک ختم نہیں ہوا۔اداکار کے مطابق رات کے وقت ان کی اہلیہ نے انہیں اطلاع دی کہ جے کے کمرے میں ایک نامعلوم شخص موجود ہے، جس کے ہاتھ میں چاقو ہے اور وہ رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ فوراً اپنے بیٹے کے کمرے کی طرف گئے، جہاں ان کا سامنا حملہ آور سے ہوا۔سیف نے بتایا کہ ملزم نے ان کے بیٹے کو پکڑ رکھا تھا اور اس دوران بچے کو معمولی چوٹ بھی آئی، جبکہ ایک گھریلو ملازمہ بھی زخمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو بچانے کی کوشش میں وہ خود حملہ آور سے الجھ گئے اور اسی دوران انہیں کئی زخم آئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور ممکنہ طور پر باتھ روم کی کھڑکی کے ذریعے گھر میں داخل ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات مختلف ہوتے تو شاید وہ اس شخص سے بات کرکے صورتحال کو سنبھال سکتے تھے، لیکن اس وقت سب کچھ اچانک ہوا اور فوری ردعمل دینا پڑا۔سیف علی خان نے اعتراف کیا کہ وہ حملہ آور کو معاف کرنے کے بارے میں ضرور سوچتے ہیں، تاہم جب کوئی شخص آپ کے خاندان اور بچوں کی جان کو خطرے میں ڈال دے تو اسے بھلانا یا معاف کرنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ حملہ آور کی نیت ابتدا میں قتل کی نہ ہو، لیکن جس طرح ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا، اس کے بعد اس واقعے کو فراموش کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔اداکار نے سماجی عدم مساوات کو بھی ایسے واقعات کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم بعض اوقات لوگوں کو غلط راستوں پر لے جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ وقت کے ساتھ زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی ہے، تاہم اس واقعے کے بعد ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ اپنے خاندان کی سلامتی اور تحفظ کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…