اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا غیرقانونی قرار

datetime 27  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے ترکیہ سے ڈی پورٹ کرنے پر شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے کیس کا 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے شہری زین عتیق کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ شہری پر سفری پابندیاں قانونی اتھارٹی اور مقررہ طریقہ کار کے بغیر عائد نہیں کی جاسکتیں۔عدالت نے بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2022 میں شہری کا نام پاسپورٹ لسٹ میں ڈالا گیا، شہری کی درخواست پر ایف آئی اے نے 2 سال سے زائد عرصہ ہونے کی بنا پر نام پی سی ایل اے سے نکالنے کی سفارش کی اور پاسپورٹ اتھارٹی نے شہری کی پی سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست عدم پیروی پر خارج کردی۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی انٹری یا کسی اور ممنوعہ فعل سے ڈی پورٹ کیے شخص کو بغیر اتھارٹی کی منظوری کے غیرمعینہ مدت پی سی ایل پر نہیں رکھا جاسکتا، ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ کسی اتھارٹی نے یہ طے کیا ہو کہ درخواست گزار کا نام پی سی ایل پر رکھا جائے۔

عدالت نے کہا کہ ریکارڈ میں ایسا کچھ موجود نہیں کہ پاکستان یا ترکیہ میں اس کے خلاف کوئی سزا یا زیرِالتوا فوجداری مقدمہ موجود ہے، ایسی کسی ڈیٹرمینیشن کے نہ ہونے کی صورت میں درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں برقرار نہیں رہ سکتا۔عدالت کے مطابق شیریں مزاری کیس میں قراردیا گیا کہ شہری پرسفری پابندیاں صرف قانونی اتھارٹی اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہی عائد کی جاسکتی ہیں، موجودہ کیس میں حکام اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے، اگرچہ اس معاملے میں حتمی اختیار پاسپورٹ اتھارٹی کے پاس ہے لیکن ایف آئی اے کی سفارش ٹھوس وجوہات کے بغیر نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی زیرِ التوا نہیں،نہ ہی کسی مجاز عدالت سے کوئی سزا کا ریکارڈ پر ہے، نہ ہی کوئی اور قانونی بنیاد موجود ہے جو پابندی کو جاری رکھنے کا جواز فراہم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…