اسلا م آباد (نیوز ڈ یسک) غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں ایک سابق کمرشل پائلٹ کے خلاف سنگین قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
الزام ہے کہ وہ تقریباً 17 سال تک ضروری لائسنس کے بغیر مسافر طیارے اڑاتا رہا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جیفری وال نامی سابق پائلٹ کو یکم جون کو حراست میں لیا گیا۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ انہوں نے 2009 سے 2025 تک 900 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازیں انجام دیں، حالانکہ ان کے پاس کپتان کے عہدے کے لیے درکار لائسنس موجود نہیں تھا۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق مذکورہ شخص نے اس عرصے میں بوئنگ 767، 777 اور 787 جیسے بڑے مسافر بردار طیارے اڑائے۔ اس دوران انہیں تقریباً 30 لاکھ کینیڈین ڈالر تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں ادا کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جیفری وال اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں کمرشل پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دینے کے مجاز تھے، تاہم 2009 میں کپتان کے عہدے پر ترقی کے وقت ان کے پاس لازمی **ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (ATPL-A)** موجود نہیں تھا، جو اس منصب کے لیے بنیادی شرط تصور کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب ایئرلائن کی جانب سے معمول کے دستاویزی جائزے کے دوران پائلٹ کے ریکارڈ میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ بعد ازاں ایئر کینیڈا نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو آگاہ کیا، جس کے بعد باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
حکام کے مطابق جب یہ معاملہ منظر عام پر آیا، اس وقت تک جیفری وال اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے، تاہم اب ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔



















































