لاہور( این این آئی)ماڈل ٹائون کے علاقے میں اجتماعی زیادتی کا شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاط حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔
پولیس نے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی روشنی میں اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ویڈیو بیان میں لڑکی نے الزام عائد کیا کہ مالک مکان کا بیٹا اور گھر کا ڈرائیور گزشتہ پانچ ماہ سے اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔متاثرہ لڑکی کے مطابق نومبر میں اسے حاملہ ہونے کا علم ہوا تھا، جس کے بعد اس نے اپنے والدین کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسے اسقاط حمل کے لیے رائیونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا جہاں طبیعت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ہسپتال انتظامیہ نے صورتحال مشکوک ہونے پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
پولیس کے مطابق لڑکی نے ابتدائی طور پر اپنے تحریری اور ویڈیو بیان میں متعدد افراد کو نامزد کیا تھا تاہم بعد ازاں اس نے اپنا بیان تبدیل کر دیا۔نجی ٹی وی نے تفتیشی حکام کے حوالے سے کہاہے کہ مالکان اور والد کے مبینہ دبا ئوکے باعث لڑکی نے ہلاکت سے قبل اپنے موقف میں تبدیلی کی اور صرف ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دیا۔ پولیس کا موقف ہے کہ کیس کے تمام پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔متاثرہ ملازمہ سروسز ہسپتال میں دو روز تک زیر علاج رہی تاہم جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق پوسٹمارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید شواہد کی روشنی میں کیس کی تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



















































