جیکب آباد (این این آئی) پسند کی شادی کرنے والے لڑکے کے والد ملہار برڑو نے مبینہ دھمکیوں سے متعلق وڈیو بیان جاری کردیا،
جس میں سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔جیکب آباد میں پسند کی شادی پر اٹھنے والے تنازع نے انتہائی خطرناک اور نیا رخ اختیار کر لیا، پسند کی شادی کرنے والے لڑکے کے والد ملہار برڑو نے سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے بااثر شخصیات کی جانب سے سنگین دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔وائرل ہونے والے ویڈیو بیان میں ملہار برڑو نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سردار احمد علی چنہ اور سردار صدام حسین چنہ کی جانب سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ملہار برڑو کا کہنا ہے کہ “سردار صدام حسین اور سردار احمد علی مجھ پر دبا ڈال رہے ہیں کہ گاں جلانے کے جرم میں درج دہشت گردی کے کیس سے دستبردار ہو جا، جبکہ اس دہشت گردی کے مقدمے سے میرا ذاتی طور پر کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ملہار برڑو نے ویڈیو میں واقعے کی پس منظر کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار صدام اور سردار احمد علی نے کئی سو افراد کے ہمراہ حملہ کر کے پورا گاں جلا دیا تھا۔اس بربریت کے خلاف گاؤں کے متاثرہ مکینوں نے ایک سو اکیس (121) گھروں کو جلانے کے الزام میں باقاعدہ طور پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا ہے، اور اب اسی کیس کو ختم کرانے کے لیے ان پر دبا ڈالا جا رہا ہے۔لڑکے کے والد ملہار برڑو نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلی حکام سے تحفظ کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان اس وقت شدید خطرے میں ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں دوٹوک کہا “اگر مجھے، میری جان کو یا میرے خاندان کے کسی بھی فرد کو کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان پہنچا، تو اس کے براہِ راست اور مکمل ذمہ دار سردار احمد علی چنہ اور سردار صدام حسین چنہ (چنہ/برڑو)ہوں گے۔



















































