مکو آ نہ (این این آئی)شادی کوئی رومانوی خواب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دونوں فریقین کیلیے انتہائی ضروری ہے،
معاشرے میں طلاق اور خلع کا بڑھتا ہوا رجحان خاندانی نظام کو کمزور کررہا ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے وکیل چوہدری مظہر حیات فیصل آبادنے خلع اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات پر تفصیلی گفتگو کی۔پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آرہا ہے، صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتوں میں ہر ایک گھنٹے میں اوسطاً 38 خلع اور نان نفقہ کے کیسز دائر ہو رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد یومیہ 300 سے زائد ہے۔اس تمام صورتحال نے ہمارے خاندانی نظام اور سماجی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلاق اور خلع کے کیسز میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بیروزگاری معاشی دباؤ ازدواجی مسائل سرفہرست ہیں۔
اس کے علاوہ معاشی دباؤ، بڑھتا ہوا ذہنی تناؤ، برداشت کی کمی، منشیات کا استعمال اور خواتین میں قانونی حقوق کی آگہی شامل ہیں، بعض حالات میں معمولی سے گھریلو جھگڑے بھی ان عوامل کے باعث سنگین صورت اختیار کرجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایک فریق سے متعلق نہیں بلکہ یہ معاشرتی، معاشی اور خاندانی عدم استحکام کی علامت ہے، خلع کے کیسز زیادہ نمایاں اس لیے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ریکارڈ پر آتے ہیں، جبکہ طلاق کے بہت سے معاملات عدالت سے باہر بھی طے ہوجاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نئی نسل کو شادی کے فیصلوں میں زیادہ آزادی ملنے کے باوجود اکثر انہیں ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں اور حقیقتوں کے بارے میں مناسب تربیت نہیں دی جاتی۔پسند کی شادی، جلد بازی میں فیصلے، غیرحقیقی توقعات اور رشتوں کو وقتی جذبات کی بنیاد پر دیکھنے کا رجحان بھی بعض اوقات تعلقات کے ٹوٹنے کا سبب بن رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا، ڈراموں اور دکھاوے کی ثقافت نے بھی نوجوانوں کے ذہنوں میں شادی سے متعلق ایک غیر حقیقی تصور پیدا کیا ہے، جہاں شادی کو صرف رومانوی خیال سمجھا جاتا ہے، جبکہ اصل زندگی میں سمجھوتہ، برداشت اور ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں



















































