پیر‬‮ ، 11 مئی‬‮‬‮ 2026 

موسمی پرندے

datetime 12  مئی‬‮  2026
’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور کے کان میں سرگوشی کی‘ دانشور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی‘ نوجوان وزیر کی بات غلط نہیں تھی‘ وہ پڑھا لکھا تھا‘ ایمان دار تھا‘ وہ چودہ گھنٹے وزارت کا کام کرتا تھا‘ اس نے اپنی وزارت میں نئی اصلاحات بھی متعارف کرائیں تھیں‘ وہ مخلص بھی تھا اور اس کے دل میں قوم کا غم بھی موجزن رہتا تھا لیکن اس کے باوجود ترقی کا پہیہ آگے نہیں چل رہا تھا‘ ہم میں سے بے شمار لوگ زندگی میں اخلاص‘ محنت اور ایمان داری کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارا کام ثمر آور نہیں ہوتا‘ ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور ہمیں اس لمحے محسوس ہوتا ہے گول اچیو کرنے کے لیے صرف ایمان داری‘ محنت اور اخلاص کافی نہیں ہوتا‘ اس کائنات میں کوئی ایسا خفیہ ہاتھ بھی موجود ہے جس کا ساتھ ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے اور آپ جب تک اس ہاتھ کی مدد حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ پر ترقی کے دروازے نہیں کھلتے‘ نوجوان وزیر بھی اسی مسئلے کا شکار تھا‘ یہ بھی محنت‘ ایمان داری‘ علم اور اخلاص کو سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا‘ اس نے بھی دن رات محنت کی لیکن رکاوٹ کی چٹان میں کوئی دراڑ نہ آئی چنانچہ وہ اب پریشانی کے عالم میں وجوہات تلاش کر رہا تھا۔ دانشور کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ چھوٹا سا فقرہ بول کر خاموش ہو گیا ’’ اپروچ کا مسئلہ ہے‘‘ نوجوان وزیر کی حیرت میں اضافہ ہو گیا‘ نوجوان وزیر کی یہ حیرت بھی بجا تھی کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگ اپروچ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے‘ ہم یہ سمجھتے ہیں دو جمع دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں چناںچہ ان کے بارے میں سوچ کر وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ہم کبھی یہ نہیں سوچتے ہم کون سے دو کو کس دو میں جمع کر رہے ہیں؟ اور ہمارے دو ہیں کیا؟ دو شیطان‘ دو شیطانوں کے ساتھ مل کر اکثر اوقات سو ہو جاتے ہیں اور دو صوفیوں کی طاقت دو صوفیوں کے ساتھ مل کر ہزار ہارس پاور ہو جاتی ہے اور دو پہیے‘ دو پہیوں کے ساتھ جمع ہو کر 20 ٹن کے ٹرالر کو متحرک کر دیتے ہیں اور ہٹلر جیسے دو برے انسان دو برے انسانوں کے ساتھ مل کر پوری دنیا کو برباد کر سکتے ہیں لہٰذا دو کو دو میں جمع
کرنا مسئلہ نہیں ہوتا‘ یہ دو ہیں کیا اور ان دونوں کو کس نوعیت کے دونوں میں ملایا جا رہا ہے‘ یہ بہت اہم ہوتا ہے‘ دنیا میں بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو دو میں دو مل کر چار نہیں ہوتیں یہ سینکڑوں‘ ہزاروں اور لاکھوں ہو جاتی ہیں مثلاً آپ ایک لمحے کے لیے سوچیے کیا دو ایٹم بم دو ایٹم بموں کے ساتھ مل کر محض چار ایٹم بم ہوں گے؟ کینسر کے مرض کو شفایاب کرنے والے دو انجکشن دو انجکشنوں میں جمع ہو کر محض چار ہوں گے اور دو عبدالستار ایدھی یا دو مدر ٹریسا دو مدر ٹریسائوں اور دو عبدالستار ایدھیوں کے ساتھ کل کر صرف چار ہوں گے؟ نہیں کبھی نہیں چناںچہ یہ دو کیا ہیں؟ یہ دو جمع دو سے کہیں زیادہ اہم بات ہوتی ہے اور یہ اہم بات ہی اپروچ کہلاتی ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپروچ کو اہمیت نہیں دیتے چناںچہ جب بھی ہم سے اپروچ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ہمارا رد عمل نوجوان وزیر سے مختلف نہیں ہوتا۔نوجوان وزیر نے پوچھا ’’ اپروچ کیسے مسئلہ ہو گئی‘‘ دانشور دوبارہ مسکرایا اور نرم آواز میں بولا ’’ دنیا میں دوقسم کے لوگ ہیں‘ پہلی قسم کے لوگ اپنی ذات میں زندہ ہوتے ہیں‘ یہ ترقی کر کے اپنی خوابوں کی سرزمین کی طرف نقل مکانی کر جاتے ہیں‘ یہ ایک خوبصورت‘ مطمئن‘ خوشحال اور صاف ستھری زندگی کے متلاشی ہوتے ہیں‘ انہیں کیپری جیسے جزیروں میں آٹھ دس ایکڑ کا ایسا فارم ہائوس درکار ہوتا ہے جس کا ایک کنارہ سمندر تک جاتا ہو اور دوسرا کنارہ پہاڑ کی چوٹی کو چھو رہا ہو‘ ان کی سٹڈی اور بیڈروم پر انگور کی بیلیں لٹک رہی ہوں اور سارے گھر میں ’’ لوبرڈز‘‘ کی آوازیں گونجتی ہوں‘ سمندر میں ان کی موٹر بوٹ کھڑی رہتی ہو اور گیراج میں مہنگی آرام دہ گاڑیاں موجود ہوں‘ ان کے اکائونٹس میں کروڑں اربوں ڈالر ہوں‘ ان کے بچے دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں‘ انہیں دنیا کی شاندار ہیلتھ کیئر حاصل ہو‘ ان کا کچن آباد ہو‘ پوری دنیا کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوں‘ یہ برینڈڈ کپڑے پہنتے ہوں اور شباب‘ شراب‘ کباب ان کے دروازے پر ہر وقت دستک دیتا رہتا ہو‘ ان کی رہائش گاہ کے اردگرد امن بھی ہو‘ امان بھی ہو‘ سکون بھی ہو اور اطمینان بھی ہو چناںچہ یہ لوگ اپنی اس دنیاوی جنت کے لیے کام کرتے ہیں‘ کچھ لوگ اپنے ہاتھوں‘ اپنے علم‘ اپنی صلاحیت اور اپنی محنت کے ذریعے اپنی خواہشوں کی یہ جنت کھودلیتے ہیں اور جس دن انہیں اپنی اس جنت کا کنارہ مل جاتا ہے یہ اپنا شناختی کارڈ اور اپنا مستقل پتہ تبدیل کر لیتے ہیں‘ کچھ لوگ اس جنت کے لیے منفی راستے تلاش کر لیتے ہیں‘ یہ جرائم اور سیاست کو اس جنت تک پہنچنے کا ذریعہ بناتے ہیں اور جس دن ان کا گول اچیو ہو جاتا ہے یہ بھی اپنا پتا بدل لیتے ہیں‘ یہ دوبئی‘ لندن‘ نیویارک‘ اوسلو یا روم میں شفٹ ہو جاتے ہیں اور باقی زندگی عیش اور آرام میں گزار دیتے ہیں‘‘۔ دانشور نے ایک لمبا سانس لیا‘ ہماری کھڑکی پر اس وقت شام کے رنگ اتر رہے تھے‘ ہم نے شام کی سرخی کوشیشوں میں مچلتے دیکھا اور دوبارہ دانشور کی طرف متوجہ ہوگئے‘ وہ بولے ’’ دوسری قسم کے لوگوں کے ذہن میں بھی جنت کا ایک نقشہ ہوتا ہے‘ یہ بھی آٹھ دس ایکڑ کے ایسے فارم ہائوس میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس کا ایک کنارہ سمندر کے نیلے پانیوں میں ہلکورے لیتاہو اور دوسرا کونا چیڑھ کے سر بلند درختوں میں ’’ لوکن میٹی‘‘ کھیل رہا ہو ‘ یہ بھی اپنے بچوں کو دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھانا چاہتے ہیں اور یہ بھی اپنے لئے دنیا بھر کی ہیلتھ کیئر اور آسائشیں چاہتے ہیں لیکن یہ لوگ روپیہ پیسہ کما کر‘ کامیابی حاصل کر کے دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں‘‘ دانشور ایک بار پھر خاموش ہو گیا‘ نوجوان وزیر نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور نرم آواز میں بولا ’’ جناب اگر دونوں کی خواہشیں ایک جیسی ہیں تو پھر اپروچ کہاں ہے؟ اپروچ کا فرق کہاں ہے‘‘ دانشور نے سوال سنا تو وہ مسکرایا اور بولا ’ ’دونوں کی اپروچ میں زمین آسمان کا فرق ہے‘ پہلی قسم کے لوگ موسمی پرندے ہیں‘ یہ موسم بدلنے کے ساتھ ہی گرم ساحلوں سے سرد ساحلوں اور سرد ساحلوں سے گرم ساحلوں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں جب کہ دوسری قسم کے لوگ اپنے ساحل کا موسم بدل دیتے ہیں‘ پہلی قسم کے لوگ اپنی کامیابی‘ اپنی خوشحالی کو سمیٹ کر کسی محفوظ‘ کسی اچھی اور پرسکون جگہ‘ کسی جدید ملک یا کسی خوش حال اور پرامن معاشرے میں جا بستے ہیں اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگی کو جنت بنا لیتے ہیں جب کہ دوسری قسم کے لوگ برے معاشرے‘ بے امن ملک‘ غربت کی شکار قوم اور بیماریوں‘ پریشانیوں ‘ حادثوں اور بحرانوں میں مبتلا سرزمین کا نقشہ بدل دیتے ہیں‘ یہ کٹے پھٹے ملکوں کو ایسا فارم بنا دیتے ہیں جس کا ایک کنارہ سمندر میں ہلکورے لے رہا ہو اور دوسرا چیڑھ کے درختوں میں خوشی سے قہقہے لگا رہا ہو اور جس کا ہر شہری دن ہو یا رات ہو ایک سرحد سے دوسری سرحد تک امن‘ سکون اور آشتی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو‘ دوسری قسم کے یہ لوگ اپنے معاشرے کی ہیئت بدل دیتے ہیں‘ یہ نیلسن منڈیلا‘ مائوزے تنگ‘ مہاتما گاندھی اور قائداعظم محمد علی جناح جیسے لوگ ہوتے ہیں‘ ان لوگوں کے پاس بھی سرے میں محل بنانے یا دوبئی میں پرسکون زندگی گزارنے یا وارمائونٹ میں گھوڑے کے اصطبل خریدنے کا آپشن موجودہوتا ہے لیکن یہ لوگ اس آپشن کی بجائے پاکستان‘ بھارت‘ چین اور جنوبی افریقہ کو چھ‘ سات یا پندرہ لاکھ کلو میٹر کا فارم ہائوس بنانے کا فیصلہ کرتے ہیں‘ یہ لوگ کروڑوں لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لے آتے ہیں‘‘ دانشور رکا‘ اس نے سانس لیا اور نوجوان وزیر سے مخاطب ہوا ’’ آپ پہلی قسم کے شخص ہیں‘ آپ کی ساری محنت آپ کی اپنی ذات کے گرد گھومتی ہے لیکن آپ چاہتے ہیں لوگ آپ کو مائوزے تنگ جیسی عزت بھی دیں‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن جس دن آپ اپنے ملک کو اپنے ذہن کی جنت بنانے کی کوشش کریں گے اس دن آپ کو اپنی محنت کے ایک ایک لمحے کا نتیجہ نکلتا ہوا نظر آئے گا‘آپ کو اطمینان بھی نصیب ہو گا اور کام یابی بھی‘‘ دانشور رکا اور اس نے آخر میں کہا ’’ عزت صرف دوسری قسم کے لوگوں کو نصیب ہوتی ہے‘ سوکھی ہوئی جھیل کو اپنے آنسوئوں سے تر کرنے والی بطخ کی آہیں موسمی پرندوں کے لاکھوں نغموں سے قیمتی ہوتی ہیں اور تم بطخ کی عزت اور موسمی پرندوں جیسی محفوظ زندگی دونوں اکٹھی چاہتے ہو‘ یہ کیسے ممکن ہے؟‘ تم بطخ بنو یا پرندہ‘‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…