کراچی(این این آئی)کیا آپ کھانے میں زیادہ نمک پسند کرتے ہیں تو یہ عادت یادداشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے،
خاص طور پر مردوں کے لیے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کے استعمال سے یادداشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ زیادہ نمک سے ان یادوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو ذاتی تجربات اور ماضی کے مخصوص واقعات سے جڑی ہوتی ہیں، جیسے اسکول کا پہلا دن، پہلا دوست وغیرہ۔اس تحقیق میں 1208 افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔بعد ازاں نمک کے استعمال سے دماغی صحت پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔تحقیق میں دریافت ہوا کہ غذا میں نمک کے استعمال سے یادداشت کی تنزلی کے عمل کی رفتار تیز ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ حیران کن طور پر مردوں میں یہ اثر نمایاں ہوتا ہے جبکہ خواتین میں اس کا مشاہدہ نہیں ہوا۔محققین نے بتایا کہ زیادہ نمک کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے جس سے بھی دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ مردوں میں یادداشت کی تنزلی کیوں ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کے پیچھے مالیکیولر میکنزم کو ابھی تک سمجھا نہیں جاسکا مگر ممکنہ طور پر نمک کے زیادہ استعمال سے دماغی ورم میں اضافہ ہوتا ہے، خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ دماغ کی جانب سے خون کا بہا گھٹ جاتا ہے۔محققین کے مطابق تحقیق میں زیادہ نمک اور دماغی افعال کے درمیان تعلق کے شواہد پیش کیے گئے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جرنل نیورو بائیولوجی آف ایجنگ میں شائع ہوئے۔



















































