تعلیمی شعبے میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت موسمِ گرما اور سرما کی تعطیلات میں کمی لانے کی تجاویز زیرِ بحث ہیں، جبکہ اسکولوں کو متبادل ہفتے کے دن کھولنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا ہے کہ حکومت گرمیوں کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن تک کمی کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ تعلیمی عمل میں آنے والے خلا کو کم کیا جا سکے اور نصاب کو وقت پر مکمل کیا جا سکے۔ان کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں تدریسی دنوں کی تعداد کو موجودہ 180 سے بڑھا کر تقریباً 190 دن تک لے جانا بھی شامل ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ طویل تعطیلات کے باعث طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، اس لیے اصلاحات ضروری ہیں۔
اسی تناظر میں موسمِ سرما کی چھٹیوں میں بھی 5 سے 6 دن کی کمی کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تعلیمی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اسکولوں کو ہر دوسرے ہفتے کے روز کھلا رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔مزید برآں، حکومت میٹرک اور او/اے لیول کے طلبہ کے لیے الگ تعلیمی کیلنڈر ترتیب دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ ان کے امتحانی شیڈول کو بین الاقوامی نظام کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔
یہ تجاویز حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کے بحران کے باعث تعلیمی اداروں کی طویل بندش کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس دوران ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے تدریسی سرگرمیوں کو تیز کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
وزیر تعلیم نے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ طلبہ عالمی سطح پر بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل بھی ہوں گے۔



















































