بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی

datetime 16  اپریل‬‮  2026 |

تعلیمی شعبے میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت موسمِ گرما اور سرما کی تعطیلات میں کمی لانے کی تجاویز زیرِ بحث ہیں، جبکہ اسکولوں کو متبادل ہفتے کے دن کھولنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا ہے کہ حکومت گرمیوں کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن تک کمی کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ تعلیمی عمل میں آنے والے خلا کو کم کیا جا سکے اور نصاب کو وقت پر مکمل کیا جا سکے۔ان کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں تدریسی دنوں کی تعداد کو موجودہ 180 سے بڑھا کر تقریباً 190 دن تک لے جانا بھی شامل ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ طویل تعطیلات کے باعث طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، اس لیے اصلاحات ضروری ہیں۔

اسی تناظر میں موسمِ سرما کی چھٹیوں میں بھی 5 سے 6 دن کی کمی کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تعلیمی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اسکولوں کو ہر دوسرے ہفتے کے روز کھلا رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔مزید برآں، حکومت میٹرک اور او/اے لیول کے طلبہ کے لیے الگ تعلیمی کیلنڈر ترتیب دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ ان کے امتحانی شیڈول کو بین الاقوامی نظام کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔

یہ تجاویز حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کے بحران کے باعث تعلیمی اداروں کی طویل بندش کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس دوران ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے تدریسی سرگرمیوں کو تیز کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

وزیر تعلیم نے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ طلبہ عالمی سطح پر بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل بھی ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…