جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایک اور خوشخبری، پاکستان کو 2028 کے آخر تک 5th جنریشن کے لڑاکا طیارے ملنے کا امکان

datetime 16  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے لیے دفاعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

جس کے تحت جدید لڑاکا طیاروں کی فراہمی سے متعلق مثبت خبر سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو پانچویں نسل کے جدید لڑاکا طیارے “کان” (KAAN) 2028 کے اختتام تک موصول ہو سکتے ہیں، جو مقررہ شیڈول سے تقریباً دو سال پہلے فراہم کیے جائیں گے۔سپتنک نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ترکی کی ایرو اسپیس کمپنی TUSAŞ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ ان طیاروں کی پہلی کھیپ 2028 کے آخر یا 2029 کے آغاز میں دی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ایئر فورس کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کیونکہ اسے بغیر کسی بڑی پابندی کے جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی تک رسائی مل رہی ہے، جو عام طور پر مغربی ممالک تک محدود ہوتی ہے۔اس منصوبے میں پاکستان کا کردار صرف خریدار تک محدود نہیں بلکہ تقریباً 200 پاکستانی انجینئرز اس پروگرام میں حصہ لے چکے ہیں، جبکہ ملک میں مشترکہ پیداوار کی سہولت قائم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ KAAN، جسے TF-X بھی کہا جاتا ہے، ایک جدید پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہے جو اسٹیلتھ ڈیزائن، دو انجنوں اور تقریباً 2200 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ طیارہ فضائی برتری حاصل کرنے اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا جو جدید ترین پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجی رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…