جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نے بذریعہ چینی جاسوس سیٹلائٹ امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، خفیہ دستاویزات میں انکشاف

datetime 15  اپریل‬‮  2026 |

تہران(این این آئی)خفیہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

2024 کے اواخر میں یہ چینی سیٹلائٹ TEE-01B سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا، سیٹلائٹ چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کیا گیا، ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو اہم امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سیٹلائٹ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں حاصل کی گئیں۔سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، جبکہ 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیٹلائٹ نے اردن کے موافق السالتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب مقامات، عراق کے اربیل ایئر پورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ایئر بیس، جبوتی میں کیمپ لیمونیئر اور عمان کے دقم ایئر پورٹ سمیت کئی دیگر تنصیبات کی نگرانی کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سویلین انفرااسٹرکچر جیسے متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور و ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری کو بھی مانیٹر کیا گیا۔

سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن تقریبا نصف میٹر صلاحیت ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مثر منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہے۔ایران کا پہلا سیٹلائٹ نور 3 تقریبا 5 میٹر ریزولوشن تک محدود تھا، جو اتنی تفصیل فراہم نہیں کر سکتا تھا، ایران نے اس سیٹلائٹ سسٹم کے کنٹرول کے لیے 36.6 ملین ڈالرز ادا کیے، معاہدے میں سیٹلائٹ، لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفرااسٹرکچر کی تفصیلات شامل ہیں۔چینی کمپنیوں ارتھ آئی کو اور ایمپوسیٹ نے سیٹلائٹ اور گرانڈ نیٹ ورک فراہم کیا، جس سے عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوا۔چینی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کی مخالفت کرتی ہے اور ہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…