اسلام آباد ۰نیوز ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان آنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم اس دورے کے لیے انہوں نے ایک اہم شرط بھی عائد کی ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ انہیں یکم اپریل کو ہی اطلاع مل گئی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان میں متوقع ہیں، مگر معاملے کی حساسیت کے باعث اس خبر کو فوری نشر کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سے مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات پاکستان میں ہونے کی اطلاعات بھی موجود تھیں، لیکن متعلقہ حلقوں کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ خبر نشر ہونے کی صورت میں امریکا، ایران اور پاکستان تینوں اس کی تردید کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں مشاورت کے بعد یہ خبر نشر کی گئی، اور اب امریکی صدر بھی اس حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔حامد میر کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کے بیانات پر مکمل انحصار نہیں کرتے کیونکہ مذاکرات کے دوران کسی بھی وقت صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بیشتر معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہو چکا تھا، تاہم لبنان کے حوالے سے ایران نے کسی بھی قسم کی نرمی دکھانے سے انکار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سفارتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ پاکستان آ کر مذاکرات میں شرکت کے خواہاں ہیں، لیکن ان کی شرط یہ ہے کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی پاکستان آئیں۔حامد میر نے یہ بھی کہا کہ امریکا بیک وقت دیگر بین الاقوامی معاملات، خصوصاً شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بھی کام کر رہا ہے، جبکہ چین اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے یورینیم اور آبنائے ہرمز سے متعلق کچھ امور پر لچک دکھانے کے اشارے دیے ہیں، تاہم لبنان کا معاملہ اب بھی انتہائی حساس ہے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کردار نمایاں ہے، اور امریکی صدر کو اپنی خودمختاری کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔



















































