اسلام آباد (نیوزڈیسک) تھانہ درازندہ کی حدود میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر زہریلا حلوہ کھانے سے دو کم عمر بھائیوں سمیت تین نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ تحصیل درازندہ کے پہاڑی علاقے پولو سکی میں پیش آیا، جہاں متاثرہ نوجوان مزدوری کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے۔ جاں بحق افراد میں 23 سالہ شیران خان اور دو سگے بھائی 14 سالہ فتح محمد اور 11 سالہ نور محمد شامل ہیں۔پولیس کے مطابق کام کے دوران ان نوجوانوں کو ایک ڈبہ ملا جس میں حلوہ موجود تھا۔ حلوہ کھانے کے کچھ ہی دیر بعد تینوں کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ تیسرا نوجوان اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں چل بسا۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ علاقہ دور دراز اور دشوار گزار ہونے کے باعث فوری طبی امداد فراہم نہ کی جا سکی، جس سے اموات میں اضافہ ہوا۔پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مفتی محمود میموریل اسپتال منتقل کیا، جہاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔
بعد ازاں تینوں نوجوانوں کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے میں ادا کی گئی، جہاں فضا سوگوار رہی۔ پولیس نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا یہ حادثہ تھا یا کسی سازش کا نتیجہ۔



















































