اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بلوچستان حکومت نے ایرانی پیٹرول کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے 280 روپے فی لیٹر پر فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے،
ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ اس سے زائد قیمت لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد مارکیٹ میں قیمتوں کے بے قابو اتار چڑھاؤ اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جائے گا اور ایرانی پیٹرول سرکاری مقررہ نرخ پر دستیاب ہوگا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ منیر احمد درانی نے واضح کیا ہے کہ سرکاری قیمت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی پیٹرول کی فروخت صرف بلوچستان تک محدود ہوگی اور اسے دیگر صوبوں میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔قیمتوں کی نگرانی کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو مارکیٹ میں جا کر نرخوں کا جائزہ لیں گی۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کے ذریعے ایرانی پیٹرول کی ترسیل اور فروخت کے نظام کو باقاعدہ بنایا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کچھ عناصر ایرانی پیٹرول 300 سے 360 روپے فی لیٹر تک فروخت کر رہے تھے۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد عوام کو اس اضافی بوجھ سے بچانا ہے۔واضح رہے کہ ایران سے ملحقہ طویل سرحد کے باعث بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی آمد عام ہے، اور اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ حکومت اب اس غیر رسمی کاروبار کو باقاعدہ دائرے میں لا کر قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



















































