اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)ا یران نے انسانی بنیادوں پر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محدود بحری آمدورفت کی اجازت دے دی ہے،
جس کے تحت ضروری اشیا اور امدادی سامان لے جانے والے جہازوں کو گزرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایسے جہازوں کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں، جو ایرانی بندرگاہوں یا بحیرۂ عمان کی سمت جا رہے ہوں گے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اسرائیل سے وابستہ ایک جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل ملائیشیا کے حکام نے بھی بتایا تھا کہ ان کے بحری جہازوں کو بغیر کسی فیس کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، اور کئی جہاز اس راستے سے گزرنے کے منتظر ہیں۔
ادھر بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے 18 جہاز، جن میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے بحری جہاز شامل ہیں، آبنائے ہرمز میں رکے ہوئے ہیں، جس سے بھارت میں توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف ان ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جو پیشگی رابطہ اور ہم آہنگی کریں گے۔



















































