میامی(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میامی میں ایک سرمایہ کاری فورم کے دوران کہا ہے کہ کیوبا اگلا ہدف ہے جبکہ ٹرمپ کے بیان کے مطابق ایک نئی بحث چھڑ گئی ،
عالمی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی اور کشیدگی مزید بڑھنے کاخدشہ بڑھ گیا ۔تفصیلات کے مطابق اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایک طاقتور فوج بنائی، لیکن کبھی کبھی اسے استعمال کرنا پڑتا ہے اور ویسے، کیوبا اگلا ہے مگر یہ بات بھول جائیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران اور وینزویلا میں اپنی کارروائیوں کو کامیاب قرار دے رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیوبا کے حوالے سے ان کا اگلا قدم کیا ہو گاجس سے صورتِحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا موقف ہے کہ کیوبا کی حکومت شدید معاشی بحران کے باعث کمزور ہو چکی ہے اور جلد گر سکتی ہے، اسی دوران امریکا اور کیوبا کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں تاکہ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔دوسری جانب کیوبا کے صدر نے تصدیق کی کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد ممکنہ فوجی کشیدگی کو روکنا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق کیوبا اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، خاص طور پر وینزویلا سے تیل کی فراہمی بند ہونے کے بعد ملک میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان سے ناصرف لاطینی امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ یہ اشارہ ممکنہ فوجی یا سیاسی مداخلت کی طرف جا سکتا ہے۔



















































