اسلام آباد (نیوز ڈیسک): ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد فی کلو قیمت 350 سے بڑھ کر 380 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوشن سے وابستہ نمائندے علی حیدر کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری صرف ریٹیلرز پر عائد نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کا بھی کردار شامل ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر قیمت میں ہونے والا بڑا اضافہ مختلف سطحوں پر ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔دوسری جانب اوگرا کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ادارے کو باضابطہ طور پر قیمتوں میں اضافے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں دکاندار سرکاری نرخ سے زیادہ وصولی کر رہے ہیں تو اس کے خلاف کارروائی کرنا متعلقہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ پورٹ قاسم پر موجود ایل پی جی کے جہاز سے گیس کی ترسیل میں تاخیر کے معاملے کا بھی اوگرا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



















































