اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور انہیں اپنی شرائط کے خلاف قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم اسے قابلِ قبول نہیں سمجھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی صورت یہ اختیار امریکا کو نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت طے کرے۔ ایران نے ایک علاقائی ثالث کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملی جاری رکھے گا۔ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے لیے سب سے پہلے حملوں کا مکمل خاتمہ اور ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا ضروری ہے۔ حکام نے کہا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس کی دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایرانی حکام نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا فیصلہ صرف انہی شرائط پر ممکن ہوگا جو ایران پیش کرے گا، ساتھ ہی مستقبل میں دوبارہ کشیدگی سے بچنے کے لیے ٹھوس ضمانتیں بھی درکار ہوں گی۔ ایران نے جنگ کے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور اس کے ازالے کی یقین دہانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نہ صرف اس کے خلاف جاری کارروائیاں روکی جائیں بلکہ خطے میں دیگر مزاحمتی گروہوں کے خلاف بھی کارروائیاں بند کی جائیں، جبکہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو تسلیم کروانا بھی اس کے مطالبات میں شامل ہے۔
یاد رہے کہ امریکا نے ایران کو جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی تجاویز پیش کی تھیں، جن میں بعض پابندیوں میں نرمی بھی شامل تھی۔ ذرائع کے مطابق ان تجاویز میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود یا ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور International Atomic Energy Agency کی نگرانی کو یقینی بنانے جیسے نکات بھی شامل تھے، جبکہ سویلین جوہری تعاون کی پیشکش بھی اس پلان کا حصہ تھی۔



















































