پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

ٹیکس فراڈکے ماسٹرمائنڈ کی حکام پردباؤکے لیے کوششیں

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

ممبئی (نیوز ڈیسک ) کروڑوں روپے کے ٹیکس فراڈ کے مقدمے میں زیرحراست ملزم نے ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کراچی کے اعلیٰ حکام پرمبینہ طورپر مقدمے کی کارروائی روکنے اور ملزم کو ملک سے فرار کرانے کے لیے غیرقانونی دباو¿ اور دھونس دھمکی کا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن آئی آر ایس کے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی مینوفیکچرر کمپنیوں کے نام پربھاری مالیت کی مصنوعات کی درآمد پر ٹیکس چوری اور جعلی انوائسز پر سیلزٹیکس ریفنڈ وصول کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والا محمداویس ولد محمد صدیق نامی ماسٹرمائنڈ2 جون2015 کو ڈائریکٹوریٹ کے ہاتھوں کراچی میں گرفتار ہوا اور اسی روز اسے ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا جسے ٹرائل کورٹ نے جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کاروں کے حوالے کیا۔
ملزم کی گرفتاری کے وقت برآمد ہونے والے ریکارڈ کی اسکروٹنی، تھرڈ پارٹی انفارمیشن، بینکوں کے ریکارڈ کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ مذکورہ شخص منظم منصوبہ بندی کے تحت ٹیکس فراڈ میں ملوث ہے اور اس پراب تک22 کروڑ70 لاکھ روپے کے ٹیکس واجبات ہیں، ملزم کو عدالت کی ہدایت پر جیل بھیج دیا گیا، قبل ازیں ٹیکسیشن کسٹمز کورٹ نے ملزم کی جانب سے دائر کی جانے والی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
بعد ازاں ملزم نے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست پیش کی جو منگل کو جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل سنگل بینچ نے مسترد کردی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرحراست ملزم تفتیش پر اثرانداز ہونے کے لیے ہرممکن دباو¿ حتیٰ کے دھونس دھمکی پر اتر آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری وکلا نے عدالت میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر اس ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ بیرون ملک فرار ہوجائے گا کیونکہ ملزم دہری شہریت کا حامل ہے اور اسکے پاس ملاوی کی شہریت بھی موجود ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلزٹیکس فراڈ کی تاریخ میں یہ پہلا کیس ہے جس میں ماسٹر مائنڈ ملزم نہ صرف گرفتار ہوا بلکہ اسے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ہے، اس مقدمے کے ذریعے دیگر ٹیکس فراڈ میں ملوث ماسٹر مائنڈز تک بھی پہنچا جا سکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ وہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والے ملزم کی جانب سے کسی دباو¿ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…