اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے کم لاگت گھروں کے لیے متعارف کرائی گئی قرضہ اسکیم میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت گھر بنانے یا خریدنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکے گا، جبکہ آئندہ چار برسوں میں پانچ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ فنانس پروگرام کے تحت شہریوں کو گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے مالی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم میں صارفین کے لیے قرض پر منافع کی شرح 5 فیصد رکھی گئی ہے جبکہ قرض کی ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے۔
حکومت کے منصوبے کے مطابق پروگرام کے پہلے سال میں تقریباً 50 ہزار گھروں کے لیے قرض جاری کیے جائیں گے۔ اس اسکیم کو قابل عمل بنانے کے لیے حکومت کو لگ بھگ 321 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنا پڑے گی۔
اس پروگرام میں کمرشل بینکوں کے ساتھ ساتھ اسلامی بینکاری ادارے بھی حصہ لیں گے، جبکہ اسکیم کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ داری اسٹیٹ بینک اور وزارت ہاؤسنگ کو سونپی گئی ہے۔



















































