تہران (نیوز ڈیسک)ایرانی ذرائع ابلاغ نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ کے انتقال سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زادہ زندہ ہیں اور ان کے کسی حملے میں جاں بحق ہونے کی اطلاعات درست نہیں۔ پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس نیوز نے جمعرات کو اس حوالے سے وضاحت جاری کی۔یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ابتدائی بیان میں ان کی والدہ کے انتقال کا کوئی ذکر نہ ہونے پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد بعض سرکاری میڈیا اداروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اہلیہ بھی حملے میں مارے گئی ہیں، تاہم بعد میں ایرانی میڈیا نے ان خبروں کی تردید کر دی۔
دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں کہا کہ ان کا منصب انہیں اہم ذمہ داریاں سونپتا ہے اور موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ مستقبل کے حوالے سے بھی فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی قیادت اور عوام کے درمیان رابطہ ہمیشہ مضبوط رہے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم نے دنیا کو اپنی قوت اور عظمت دکھا دی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں قوم کی بہتر رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے اور کہا کہ وہ عوام کی خدمت کے لیے قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کریں گے۔



















































