اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)پنجاب میں ممکنہ پیٹرولیم بحران کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے صوبائی حکومت کے لیے سخت کفایتی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ہدایت جاری کی ہے کہ پیٹرولیم بحران ختم ہونے تک صوبائی وزرا کو سرکاری ایندھن فراہم نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے دیے جانے والے پیٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔حکومت نے پروٹوکول گاڑیوں کے استعمال کو بھی محدود کر دیا ہے۔ نئے فیصلے کے مطابق صوبائی وزرا اور سینئر سرکاری افسران کے ہمراہ سیکیورٹی کی ناگزیر ضرورت کے تحت صرف ایک گاڑی رکھنے کی اجازت ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے سرکاری دفاتر میں اخراجات کم کرنے کے لیے ورک فرام ہوم پالیسی بھی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں حاضر ہوگا جبکہ بیشتر سرکاری امور آن لائن طریقے سے انجام دیے جائیں گے۔ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ای بزنس سروسز اور “مریم کی دستک” پروگرام کے تحت خدمات جاری رہیں گی۔حکومتی اجلاس اب زیادہ تر آن لائن یا ٹیلی کانفرنس کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر ہونے والی بیرونی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ ثقافتی میلہ ہارس اینڈ کیٹل شو بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا ہے، پی آئی بی کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دیدیا گیا ہے۔



















































