قاہرہ(این این آئی)گزشتہ چند دنوں کے دوران مصر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث و تکرار کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔
اس کی وجہ ایسے دعووں کی گردش تھی جن میں فجر کی اذان کے موجودہ وقت کی درستی پر شک ظاہر کیا گیا اور نتیجے کے طور پر لوگوں کے روزوں کے صحیح نہ ہونے کی بات بھی کردی گئی۔ ان آرا کو پھیلانے والوں نے قرآن کریم کی بعض آیات کی انفرادی تشریحات کا سہارا لیتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ مصر میں سحری اور روزے کے آغاز کے اوقات درست نہیں ہیں۔ اس رائے نے شہریوں کے درمیان ایک فوری سوال کھڑا کر دیا کہ کیا موجودہ وقت کے مطابق ہمارا روزہ صحیح ہے؟اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے فوری ردعمل دیتے ہوئے مصری دارالافتا نے اپنے سرکاری اکائونٹس کے ذریعے ایک وضاحتی بیان جاری کردیا۔ بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مصر میں رائج فجر کے وقت کے حساب کتاب کا طریقہ مکمل طور پر درست ہے اور قرآن کریم، سنتِ نبوی اور صحابہ کرام کے قول و فعل کے عین مطابق ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ موجودہ وقت، جس کا مساجد سے اعلان ہوتا ہے اور مصری جنرل سروے اتھارٹی جس کا اعلان کرتی ہے، ایک مستحکم وقت ہے جسے ماہر سائنسی کمیٹیوں نے طے کیا ہے۔ ان کمیٹیوں میں ممتاز علمائے شریعہ، بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات اور زمین کی پیمائش کے علوم کے ماہرین شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معیارات محض اتفاقیہ نہیں ہیں بلکہ یہ دقیق فیلڈ اور سائنسی مطالعہ کا نتیجہ ہیں جن پر ریاستی ادارے دہائیوں سے کاربند ہیں۔
دارالافتا نے ایسے غیر ماہرین کی تشریحات یا ان انفرادی آرا کے پیچھے چلنے سے خبردار کیا جن کا مقصد اجتماعی عبادات میں انتشار پیدا کرنا ہے۔ دارالافتا نے کہا کہ اسلام اپنے عمومی معاملات میں مسلمانوں کے اتحاد اور تفرقے سے بچنے کے لیے نظمِ عامہ کی پاسداری پر مبنی ہے۔ ادارے نے روزے داروں کو اطمینان دلایا کہ موجودہ وقت کے مطابق ان کی نماز اور روزہ صحیح اور مقبول ہے۔ دارالافتار نے سب سے اپیل کی کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں جن کی کوئی ٹھوس سائنسی یا شرعی بنیاد نہیں ہے۔



















































