ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ڈاکٹر مالک بلوچ 2015 کے بعد بھی وزیر اعلیٰ رہیں گے، اسٹیک ہولڈرز میں اتفاق

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے اس یقین کا اظہارکیا ہے کہ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ2015ءکے بعد بھی بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان کام جاری رکھیں گے جب کہ اس فیصلے سے ان کے حریف اور (ن) لیگ بلوچستان کے صدر نواب ثنا اللہ زہری کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا ہے۔ڈاکٹرعبد المالک کے بلوچستان کی اتحادی حکومت کے سربراہ کے طور پر کام جاری رکھنے کا فیصلہ فوج سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ان کے کام پر اظہاراطمینان اوران کی تعریف کے بعد کیاگیا، اسٹیبلشمنٹ صوبے میں سیاسی استحکام کی واپسی کیلیے ڈاکٹر عبد المالک کے کردار کی معترف ہے۔ 2013ءکے عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) نے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کی نیشنل پارٹی اور محمود خان اچکزئی کی پختونخوا عوامی ملی پارٹی سے مل کر اتحادی حکومت تشکیل دی تھی اور اس وقت یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ نصف دور حکومت کے دوران وزیر اعلیٰ کا قلمدان نیشنل پارٹی کے پاس رہیگا جبکہ باقی دور حکومت میں یہ عہدہ مسلم لیگ ن کے پاس رہیگا۔مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر نواب ثنا اللہ زہری کو یہ یقین تھاکہ 2015ءکے آخر تک یہ عہدہ انھیں مل جائیگا تاہم اب یہ دکھائی دیتا ہے کہ حالات ان کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اسٹیک ہولڈرز بلوچستان حکومت کے موجودہ سیٹ اپ میں تبدیلی نہیں چاہتے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی یہ بات سمجھتی ہے کہ ڈاکٹرعبد المالک بلوچ کی مڈل کلاس لیڈرشپ نے بلوچوں کے زخموں پرکسی حد تک مرہم رکھا ہے جبکہ ایک سردارکو وزیر اعلیٰ بلوچستان بنانے سے قبائلی دشمنیوں کو ہوا ملے گی۔ماضی میں بھی بلوچستان کی حکومتیں قبائلی دشمنیوں اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔عبدالمالک بلوچ کے کریڈٹ پر بلوچ علیحدگی پسند بلوچوں سے رابطوں کے بعد انھیں مذاکرات کی میز پر لانے،فراری کمانڈرز کو ہتھیار ڈلوانے جیسے اقدامات ہیں جبکہ وہ خود ساختہ جلا وطن خان آف قلات کو واپس پاکستان لانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…