بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ

datetime 1  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی کے آخری ایام میں سیکیورٹی اس قدر غیر معمولی بنا دی گئی تھی کہ

جدید دور میں اس کی کم ہی مثال ملتی ہے۔ اعلیٰ سرکاری شخصیات کو ان سے ملاقات کے لیے خفیہ مقام پر منتقل کرتے وقت آنکھوں پر پٹیاں باندھی جاتی تھیں تاکہ ٹھکانے کی شناخت ظاہر نہ ہو سکے۔ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو بھی اسی طریقہ کار کے تحت نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ بعد ازاں وہ سفارتی مشاورت کے لیے عمان روانہ ہوئے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدامات محض رسمی نہیں تھے بلکہ اس اندیشے کی علامت تھے کہ ریاستی ڈھانچے کے اندر معلومات کے اخراج کا خطرہ موجود ہے اور قیادت مکمل اعتماد کے ماحول میں نہیں۔رپورٹس کے مطابق خامنہ ای تہران میں ایک نجی زیرِ زمین بنکر میں منتقل ہو چکے تھے۔ جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد یہ دوسری مرتبہ تھا جب انہوں نے خفیہ پناہ گاہ اختیار کی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مقام باہم مربوط سرنگوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

ایرانی عسکری حکام کا دعویٰ تھا کہ اس کمپلیکس میں دو انتہائی گہرے بنکر ایسے تھے جنہیں صرف مخصوص امریکی ہتھیار ہی نشانہ بنا سکتے تھے، تاہم سپریم لیڈر ان میں موجود نہیں تھے۔امریکی انٹیلی جنس ادارے کئی ماہ سے ان کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی حکام نے اندازہ لگا لیا تھا کہ دباؤ کی صورتحال میں ایرانی قیادت کس انداز میں رابطے کرتی اور مقام تبدیل کرتی ہے۔ انہی مشاہدات کی بنیاد پر نگرانی کا ایک منظم نظام تشکیل دیا گیا جس نے سیکیورٹی کے معمولات اور روزمرہ نقل و حرکت کا تفصیلی جائزہ تیار کر لیا۔17 جون 2025 کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ انہیں خامنہ ای کے مقام کا علم ہے۔ انہوں نے انہیں ایک آسان ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت انہیں نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں۔ دس روز بعد ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک “ذلت آمیز انجام” سے بچایا۔ان بیانات کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، ملاقاتوں کو محدود کر دیا گیا اور اعتماد کا دائرہ کم سے کم افراد تک سمیٹ دیا گیا۔ اس کے باوجود بیرونی نگرانی کا سلسلہ جاری رہا۔

ہفتے کی صبح خفیہ اداروں کو اطلاع ملی کہ خامنہ ای تہران کے مرکزی علاقے میں ایک محفوظ مقام پر سیاسی و عسکری قیادت کے اعلیٰ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے مقام سے متعلق انتہائی درست معلومات دستیاب تھیں۔ ابتدا میں کارروائی رات کے وقت طے تھی، تاہم بعد میں وقت تبدیل کر کے صبح کر دیا گیا تاکہ قیادت ایک ہی جگہ جمع ہو سکے۔سخت حفاظتی اقدامات، زیرِ زمین پناہ گاہیں اور کئی ماہ کی پیشگی تیاری بھی اس نگرانی کے جال کو روک نہ سکیں جو خاموشی سے ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ ایرانی حکام نے اندرونی معلومات کے اخراج سے بچنے کے لیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کیں، مگر جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی انٹیلی جنس کے مربوط نظام کے سامنے یہ تدابیر مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…