اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی سطح پر تقرریوں اور ترقیوں کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے لیے نئے مجوزہ قواعد تیار کر لیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ضوابط وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ادارے میں باضابطہ نافذ العمل ہو جائیں گے۔نئے مسودے کے تحت گریڈ 17 کی اسامیوں پر بھرتی وفاقی پبلک سروس کمیشن کی سفارش سے کی جائے گی۔ ادارے کو انتظامی بنیادوں پر چار بڑے شعبوں—انویسٹی گیشن، لیگل، ایکسپرٹس اور منسٹریل—میں تقسیم کیا گیا ہے، اور براہ راست تقرریاں انہی گروپس میں ہوں گی۔قواعد کے مطابق ملازمین اپنی ابتدائی تعیناتی والے شعبے میں ہی ملازمت جاری رکھیں گے اور گروپ تبدیل کرنے کے اختیارات محدود ہوں گے۔ اسی طرح پی ایس پی اور ایف آئی اے افسران کے لیے مختلف گریڈز میں نمائندگی کا نیا تناسب مقرر کیا گیا ہے، جس کے مطابق گریڈ 20 اور 21 میں 70 فیصد نشستیں پی ایس پی جبکہ 30 فیصد محکمانہ افسران کے لیے ہوں گی، جبکہ گریڈ 19 میں دونوں کی شرح برابر رکھی گئی ہے۔
مزید برآں گریڈ 17 اور 18 میں 60 فیصد تعیناتیاں محکمانہ افسران کی ہوں گی اور ان درجات پر کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ڈپیوٹیشن پر آنے والے افسران کو مستقل حیثیت دینے کی اجازت نہیں ہوگی، اور محکمانہ ترقی کے لیے کم از کم سروس مدت اور لازمی تربیتی کورسز مکمل کرنا ضروری ہوگا۔ ترقی کا عمل سنیارٹی کم فٹنس کے اصول کے تحت ہوگا اور پروموشن بورڈ کا سالانہ اجلاس لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔



















































