اسلام آبا د (نیوز ڈیسک ) بھارت کے فاسٹ بولر نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں امریکہ کے خلاف شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا،
حالانکہ حیران کن طور پر انہیں ٹورنامنٹ کے آغاز سے صرف ایک دن قبل 15 رکنی اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ موقع انہیں اس وقت ملا جب بھارتی بولر ہرشت رانا انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہو گئے۔میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سراج نے بتایا کہ وہ خود بھی اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ انہیں ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ چکے تھے کہ وہ اس بڑے ایونٹ کا حصہ نہیں ہوں گے، مگر قسمت نے آخری لمحے پر سب کچھ بدل دیا۔محمد سراج نے بتایا کہ جب سوریہ کمار یادو نے فون کر کے انہیں ٹیم میں شمولیت کی خبر دی تو ابتدا میں انہوں نے اسے مذاق سمجھا۔ سراج کے مطابق وہ اس وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ تھے اور آرام کر رہے تھے کہ اچانک فون آیا اور کہا گیا کہ فوراً تیاری کریں اور سفر کے لیے تیار ہو جائیں۔پریس کانفرنس کے دوران جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے سراج نے کہا کہ فلائٹ میں بیٹھے ہوئے بھی انہیں یہی محسوس ہو رہا تھا کہ شاید یہ سب ایک خواب ہے، کیونکہ گزشتہ ایک سال سے وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ نہیں کھیل رہے تھے اور اسی بنیاد پر انہوں نے یہ مان لیا تھا کہ ورلڈ کپ ان کے نصیب میں نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سوریہ کمار یادو نے سنجیدگی سے بتایا کہ وہ واقعی ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں تو یہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ یقین تھا۔ سراج کا کہنا تھا کہ جو تقدیر میں لکھا ہو، اسے کوئی نہیں بدل سکتا، اور اللہ نے انہیں نہ صرف اسکواڈ میں شامل کیا بلکہ میدان میں کارکردگی دکھانے کا موقع بھی دیا۔
اپنی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے محمد سراج نے کہا کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں کھیلنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے، اس لیے جذبات کا ہونا فطری بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کوشش یہی تھی کہ وہ سادہ اور مؤثر بولنگ کریں، جیسا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کرتے آئے ہیں، اور وکٹ ٹو وکٹ گیند بازی کا انہیں فائدہ بھی ملا۔



















































